اسرائیل میں سخت گیرحکومت کی طرف سے عدلیہ کو ’کینڈے‘ میں لانے کے لیے نام نہاد عدالتی اصلاحات کے بعد بھی حکومت کی مشکلات کم نہیں ہوسکیں بلکہ حکومت اس وقت عسکری قیادت کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کی پوزیشن میں ہے۔
وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ وہ پیر کو ہنگامی اجلاس میں شریک جرنیلوں اور وزراء کے ساتھ پولی گراف مشین کا استعمال کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سیاسی اور عسکری قیادتوں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا ہوا اور اجلاسوں کی کارروائی اسرائیلی میڈیا کو کس نے لیک کیا۔ خاص طور پراسرائیلی حکومت کی جانب سے انقلابی اصلاحات کے منصوبے پر اصرار اور فوج، سکیورٹی اداروں، عدلیہ اور پوری ریاست کی طرف سے مخالفت اور الزامات کے بارے میں حکومت فوج سے بات کرنا چاہتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نیتن یاہو جنہوں نے مذکورہ میٹنگ آرمی چیف آف سٹاف ہرزی ھلیوی کی درخواست پر کی تھی اور انہیں ان کی اور سکیورٹی سروسز کے دیگر رہ نماؤں کو سننا تھا، کیونکہ انہوں نے فوجی ادارے کے اندر ہلچل کی تنبیہ کی تھی۔ عدلیہ کو کمزور کرنے پرفوج کے اندر بغاوت، نظام حکومت کا تختہ الٹنے اور عدلیہ کو کمزور کرنے کے منصوبے کی وجہ سے اپنے الفاظ سے وہاں موجود لوگوں کو چونکا دیا۔
ان کی شکایات سننے، ان کی تکالیف کو سمجھنے اور فوج کے اندر کے حالات کی حقیقی تصویر سے واقفیت کے بجائے اس نے ان مسائل کے حل کے لیے ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیےتقریر شروع کر دی اور ہدایات دینا شروع کر دیں۔ وزیراعظم نے ان لوگوں پر قابو پانے کی ضرورت پر زور دیا جنہوں نے ریزرو سروس میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
سرکاری ٹی وی چینل ’کے اے این‘ اور چینل نے اسرائیلی سکیورٹی سروسز کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ نیتن یاہو نے فضائیہ کے کمانڈر ٹومر بار کے بیان کی روشنی میں تل ابیب میں وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر میں ہنگامی سکیورٹی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی اہلیت کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران فوجی قیادت نے نیتن یاہو کو ریزرو فورسز میں رضاکارانہ خدمات سے پرہیز کرنے کے عوامی رجحان کی تفصیل بیان کی اور آنے والے ہفتوں میں فضائیہ،بری فوج اور بحریہ کے ہیڈ کوارٹر سے آگے بڑھنے کے رجحان کے پھیلنے کے امکانات کے بارے میں جائزہ پیش کیا۔
نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ’آئی ڈی ایف‘ کے سربراہوں نے خبردار کیا کہ فوج کی کارکردگی کو پہنچنے والے نقصان دو ہفتوں کے اندر اندر مزید بڑھ جائیں گے۔ سیکورٹی قیادت نے 3 ممکنہ پیش رفتوں کی طرف نشاندہی کی جن سے اسرائیلی فوج کی کارکردگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
فوجی قیادت کے مطابق اسرائیلی فوج کی ’بین الاقوامی قانونی حیثیت‘ کو نقصان پہنچانے سے فوج کی کارکردگی میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے اور بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔ تیسری پیشرفت جس کے بارے میں فوجی رہ نماؤں نے خبردار کیا ہے اور فوج کی اہلیت اور تیاری پر اس کے اثرات ہیں۔