اسرائیل میں عرب اقلیت کے خلاف بڑھتے جرائم, عرب رکن کنیسٹ کا سول نافرمانی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی کنیسٹ میں عرب اقلیت کے منتخب رکن ایمن عودہ نے عرب شہریوں کے خلاف جاری جرائم پر بہ طور احتجاج سول نافرمانی اور جامع ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

عودہ نے اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن سے وابستہ عربی ریڈیو اسٹیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ایک تاریخی بحران میں ہیں جس کے جوابات کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس عرب شہریوں کے خلاف بڑھتے جرائم کے خلاف کئی آپشنز ہیں۔ان میں سے ایک آپشن سول نافرمانی کا ہے جس پر ہم غور کررہےہیں۔

اسرائیلی عربوں نے تل ابیب میں ایک ریلی میں اپنی برادریوں میں پرتشدد جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے خلاف احتجاج کیا، 6 اگست (اے پی)
اسرائیلی عربوں نے تل ابیب میں ایک ریلی میں اپنی برادریوں میں پرتشدد جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے خلاف احتجاج کیا، 6 اگست (اے پی)

انہوں نے کہا کہ دوسرا آپشن تین روزہ یا زیادہ دنوں کی جامع ہڑتال ہے۔ اس کے علاوہ عرب شہروں کےتمام خارجی راستوں کو بند کرنے اور ریاست کے نظام معیشت کو معطل کرنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ ہم اس آپشن پر بھی غور کررہے ہیں۔

انہوں نے "کنیسیٹ سے عرب ارکان کے اجتماعی استعفیٰ کے امکان" کی واپسی کے ساتھ ساتھ عرب مقامی حکام کے سربراہوں کے اجتماعی استعفیٰ کو بھی ایک ایسے آپشن کے طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے۔

برائے ایمن عودہ (درمیان) کنیسیٹ میں، جون 2021 (اے ایف پی)
برائے ایمن عودہ (درمیان) کنیسیٹ میں، جون 2021 (اے ایف پی)

عودہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عرب کمیونٹی میں جرائم کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ ہفتے اور اتوار کی رات سخنین شہر سے تعلق رکھنے والے علی خیر اللہ ابو صالح کو نامعلوم افراد نے اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا جب وہ اپنی کار میں عربہ اور سخنین کے درمیان سڑک پر سفر کررہے تھے۔ قاتل جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جبکہ پولیس نے ان کی تلاش میں علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے۔

ابو صالح کے قتل کے بعد اس سال کے آغاز سے عرب کمیونٹی میں قتل کے ہونے والے افراد کی 160 ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال اس عرصے میں جرائم کا شکار ہونے والے عرب شہریوں کی تعداد 64 تھی۔

ابو صالح کے مارے جانے سے پہلے ایک ہی خاندان کے چھ افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔انہیں الجلیل کے علاقے کفر کنا میں نامعلوم افراد نے گولیاں ماری تھیں۔

کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں نیتن یاہو اور کابینہ سکریٹری یوسی فاکس (EPA) کے ساتھ بات چیت
کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں نیتن یاہو اور کابینہ سکریٹری یوسی فاکس (EPA) کے ساتھ بات چیت

مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے مقبوضہ علاقوں میں بسنے والے عرب شہریوں کو جو اسرائیل کی عرب اقلیت تصور کیے جاتےہیں ایک منظم مہم کا سامنا ہے۔ قتل وغارت گری کی اس مکروہ مہم میں اسرائیلی ریاستی اداروں کی مجرمانہ خاموشی کا عنصر بھی شامل ہے کیونکہ قتل کی کئی ایسی وارداتیں ہوچکی ہیں جن کے مرتکب یہودی کھلے عام گھومتےپھرتے ہیں مگر پولیس انہیں گرفتار کرنے اور ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔

ایک رہائشی نے ’وائی نیٹ‘ نیوز سائٹ کو بتایا "تقریباً ہر روز فائرنگ اور ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ ان واقعات کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ دکانوں، گھروں اور دفاتر میں گولی مارتے ہیں۔ میں فائرنگ کی وجہ سے اپنے گھر سے نہیں نکلتا۔ پولیس کوئی کنٹرول نہیں۔ ہرطرف عسکریت پسندوں کا کنٹرول ہے۔ ہم بے گناہ لوگ زخمی یا مارے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں