عرب اسرائیل تنازع

بحرین میں اسرائیلی سفارت خانہ کا باضابطہ افتتاح، سفارتی تعلقات میں اہم سنگِ میل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیل نے پیر کے روز بحرین میں اپنا سفارت خانہ باضابطہ طور پر کھول دیا ہے۔دونوں ممالک نے تین سال قبل دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے امریکا کی ثالثی میں طے شدہ معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔اب امریکا اسرائیل کے ساتھ اسی طرح کے ایک معاہدے کے لیے سعودی عرب پر دباؤ ڈال رہا ہے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ خطے میں اسرائیل کی سب سے بڑی سفارتی فتح ہوگی۔

اسرائیلی وزیرخارجہ ایلی کوہن نے بحرین کے دورے کے موقع پر منامہ میں سفارتی مشن کے افتتاح کی سرکاری تقریب میں شرکت کی۔ان کے ہمراہ اسرائیلی تاجروں اور سرکاری حکام کا ایک وفد بھی منامہ آیا ہے۔

کوہن نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ’’(بحرین) کے وزیرخارجہ اور میں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہمیں براہ راست پروازوں کی تعداد، سیاحت، تجارتی حجم اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے‘‘۔

بحرین کے وزیرخارجہ عبداللطیف الزیانی نے کہا کہ سفارت خانے کا افتتاح خطے کے تمام لوگوں کی سلامتی اور خوش حالی کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکا کی ثالثی میں بحرین اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ معمول کے دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کے لیے طے شدہ ایسے ہی متعدد معاہدوں کا حصہ تھا۔انھیں معاہدۂ ابراہیم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ان پر متحدہ عرب امارات ، مراکش اور سوڈان نے بھی الگ الگ دست خط کیے تھے۔

بحرین میں اسرائیلی سفارت خانے کا افتتاح ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اپنے روایتی حلیف الریاض پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایسے ہی معاہدے پر دست خط کرے۔

تاہم الریاض نے اب تک امریکی دباؤ کی مزاحمت کی ہے اور اس اقدام کو دیگر مطالبات کے ساتھ اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام سے جوڑا ہے۔وہ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے باضابطہ تعلقات سے پہلے مشرقِ اوسط کے اس دیرینہ تنازع کا عرب امن اقدام کے مطابق پائیدار حل چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں