اسرائیل میں کئی عالمی کمپنیوں نے آپریشنز عارضی بند کردئیے
ایئر لائنز، بینک ا ور آئل کمپنیوں نے آپریشنز روک دئیے، مصنوعی ذہانت سے متعلق اجلاس منسوخ
اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان فوجی جھڑپوں کے بعد اسرائیل میں موجود کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے عارضی طور پر اپنے کام بند کر دیے ہیں اور اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کو کہا ہے۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ اور رائٹرز کے مطابق ان کمپنیوں نے جنگ کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے حالیہ اقدامات کئے۔
کئی امریکی، ایشیائی اور یورپی ایئر لائنز نے تل ابیب کے لیے اپنی براہ راست پروازیں معطل کر دی ہیں۔
شیورون کے ایک ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کی وزارت توانائی، جو امریکہ میں تیل اور گیس پیدا کرنے والی دوسری بڑی کمپنی ہے، کو ملک کے شمالی ساحل پر واقع تمر قدرتی گیس فیلڈ کو بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ایک ذریعہ نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی بینک جے پی مورگن چیس نے اسرائیل میں 200 ملازمین کو گھر سے کام کرنے کو کہ دیا ہے۔ گولڈمین سیکس کے ترجمان نے کہا ہے کہ تل ابیب میں بینک کے دفتر میں موجود ملازمین کو بھی گھر سے کام کرنے کو کہا گیا ہے۔ بلومبرگ نیوز کے مطابق مورگن سٹینلے نے اسرائیل میں اپنے ملازمین کو اگلے کچھ عرصہ گھر سے کام کرنے کو کہ دیا ہے۔
بھارتی ارب پتی گوتم اڈانی کی ملکیت اڈانی پورٹس، جو شمالی اسرائیل میں حیفا بندرگاہ کو چلاتی ہے، نے کہا ہے کہ بندرگاہ کام کر رہی ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کام جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔
مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر گرافکس میں استعمال ہونے والی چپس بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’’ این ویڈیا‘‘ نے کہا ہے کہ اس نے اگلے ہفتے تل ابیب میں ہونے والی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سربراہی اجلاس کو منسوخ کر دیا ہے۔ سی ای او جینسن ہوانگ کانفرنس میں خطاب کرنے والے تھے۔