جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایک فلسطینی ڈاکٹر نے شکایت کی ہے کہ لندن میں مقیم اس کے خاندان کو پولیس کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
برطانوی پولیس کا فلسطینی ڈاکٹر کے خاندان پر حملہ
فلسطینی نژاد برطانوی ڈاکٹر غسان ابو ستہ نے زخمیوں کے علاج اور ریسکیو میں مدد کے لیے برطانیہ چھوڑ کر غزہ کی پٹی کا رخ کیا۔
معروف ڈاکٹر نےکہا کہ برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس نے ان کے خاندان پر حملہ کیا۔
British counter terrorism police has showed up at my house in the UK and harrased my family.
— Ghassan Abu Sitta (@GhassanAbuSitt1) October 16, 2023
ایکس ویب سائٹ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا "برطانوی انسداد دہشت گردی پولیس برطانیہ میں میرے گھر آئی اور میرے خاندان کو ہراساں کیا"۔
’سی این این‘ کے مطابق فلسطینی سرجن ابو ستہ نے غزہ کی پٹی میں زخمیوں کی نوعیت کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ زخمیوں میں زیادہ تر بچے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں صحت کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ انہوں نے ابتدائی طبی امداد کے سامان کی کمی پر بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ زخمیوں بری طرح جھلس چکے ہیں اور ان کے لیے مناسب طبی امداد میں مشکلات کا سامنا ہے۔
الطبيب الفلسطيني "غسان أبو ستة" يتحدث لقناة سكاي نيوز البريطانية عن سوء الأوضاع الصحية في مستشفى الشفاء في غزة، الذي يُعَد أكبر مستشفيات القطاع، ويؤكد عدم قدرته على استقبال مزيد من الضحايا!#العرب_في_بريطانيا AUK pic.twitter.com/a433nHsfBD
— AUK العرب في بريطانيا (@AlARABINUK) October 16, 2023
قابل ذکر ہے کہ فلسطینی ڈاکٹر لندن سے سفر کر کے غزہ پہنچے، جس کا مقصد وہاں کے ہسپتالوں میں طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
غسان ابو ستہ ایک فلسطینی باپ اور لبنانی والدہ سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری ہیں۔ انہوں نے اپنی گریجویشن کی تعلیم برطانیہ میں مکمل کی، جہاں اس نے اپنی زندگی کے 25 سال گزارے۔
-
صدر میکروں نے فرانسیسی خاتون شہری کو غزہ میں یرغمال بنائے جانے کو ’شرمناک‘ قرار دیا
منگل کے روز فرانسیسی صدر عمانویل میکروں نے حماس کی طرف سے ایک فرانسیسی نژاد ...
بين الاقوامى -
سلامتی کونسل غزہ میں جاری خونریزی کی ذمہ دار ہے: حماس
فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہےکہ جو ممالک انسانی ہمدردی کے تحت جنگ سے متاثرہ لوگوں ...
مشرق وسطی