حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ آپریشن ’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ کے ستائیسویں دن ان کے جنگجو کئی محاذوں پر اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ القسام بریگیڈ اسرائیلی فوج کی ایک بٹالین کو تباہ کرنے میں کامیاب رہا۔ القسام کے جنگجوؤں نے جمعرات کو 6 ٹینک، دو فوجی گاڑیاں اور ایک بلڈوزر تباہ کر دیا۔
ابو عبیدہ نے بتایا کہ القسام قابض افواج کے خلاف اپنی دفاعی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا القسام آرٹلری قابض افواج کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا ابو عبیدہ نے مزید کہا کہ ہم قابض فوج کے خلاف فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں کی کارروائیوں کو مشکل سے شمار کر سکتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے قابض فوجیوں کی تعداد قابض فوجی قیادت کے اعلانات سے کہیں زیادہ ہے۔
ابو عبیدہ نے وضاحت کی کہ اسرائیل کی بکتر بند گاڑی ’’ ٹائیگر‘‘ القسام بریگیڈ کے میزائلوں کے پہلے حملے میں ہی تباہ ہوگئی۔
رئيس الأركان الإسرائيلي يعترف بمقتل عدد من الجنود: حرب #غزة لها ثمن مؤلم وباهظ#العربية pic.twitter.com/sw84ns7llY
— العربية (@AlArabiya) November 2, 2023
یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حماس کے رہنما اسامہ حمدان نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جس میں سفید فاسفورس بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں تین قتل عام کیے جس میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ اور ہر وہ شخص جو دشمن کی حمایت کرتا ہے اس کے قتل عام میں شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ جاری اسرائیلی بمباری کی وجہ سے غزہ میں صحت کے شعبے پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ غزہ میں صحت کی صورتحال تباہ کن ہے۔ ابھی تک مناسب سامان نہیں پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ کی امداد کے لیے کم از کم روزانہ 300 امدادی ٹرکوں کے داخلے کی ضرورت ہے۔ اسرائیل اس وقت جھوٹ بول رہا ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے کہ ہسپتالوں میں مزاحمتی افراد نے پناہ لی ہوئی ہے۔
حماس کے رہنما نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی کے مقدر کا تعین فلسطینی عوام کو انتخابات کے ذریعے کرنا چاہیے۔ ہم جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات کرنے والے کسی بھی بیان کو قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ جنگ آسانی سے نہیں گزرے گی۔ انہوں نے رفح راہداری کو داخلے کے لیے کھولنے میں مصر کے کردار کی تعریف کی اور درخواست کرتے ہوئے کہا کہ طبی بحری جہاز غزہ کے ساحلوں پر بھیجے جائیں ناکہ کہ اس سے باہر۔
حماس کے نمائندے نے کہا کہ جرمنی کی جانب سے تحریک کی سرگرمیوں پر عائد پابندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے جرائم میں شریک ہے۔
قبل ازیں حماس تحریک نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی کے انتظام کے لیے بین الاقوامی علاقائی اتفاق رائے کے وجود کے بارے میں جو رپورٹ دی گئی تھی اسے مسترد کر دیا تھا۔