الشفاء ہسپتال پر اسرائیلی حملے کے بعد فلسطینی وزارت کا بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز الشفاء اسپتال پر اسرائیلی افواج کی یلغار کے بعد شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

وزارت نے پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا، "وزارتِ امورِ خارجہ و تارکین وطن الشفاء ہسپتال اور دیگر ہسپتالوں پر اسرائیلی قابض فوج کے حملے کی مذمت کرتی ہے اور وہاں کے شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کرتی ہے۔"

وزارت نے یہ بھی کہا، اسرائیلی حکومت "احاطے کے اندر موجود طبی عملے اور ہزاروں مریضوں، زخمیوں اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں اور پناہ گزینوں سمیت بچوں کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری رکھتی ہے۔"

بدھ کی علی الصبح یہ دعویٰ کرنے کے بعد کہ فلسطینی عسکریت پسند تحریک حماس کا ہسپتال کے احاطے کے نیچے ایک کمانڈ سینٹر ہے، اسرائیلی افواج نے کہا کہ وہ غزہ کے سب سے بڑے الشفاء ہسپتال میں آپریشن انجام دے رہے تھے۔

7 اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیلی سرحد کے پار دراندازی کر کے حملہ کیا تھا جس میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس کے بعد سے الشفاء ہسپتال غزہ پر اسرائیلی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ دریں اثناء حماس کے زیرِ انتظام حکومت کے فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ انکلیو پر اسرائیلی حملوں میں 11,000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 40 فیصد بچے ہیں۔

ہسپتال شہریوں کے لیے ایک پناہ گاہ بنا ہوا ہے اور ایندھن، بجلی، پانی اور بنیادی طبی سامان کی قلت کے درمیان نازک مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

بیان میں فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور "ان خلاف ورزیوں اور جرائم کی توسیع قرار دیا ہے جو قابض فوج ہمارے لوگوں کے خلاف کر رہی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں