غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے آغاز کے انتظار کے دوران حماس کے رہ نما اسامہ حمدان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ان کی جماعت جنگ بندی کی تفصیلات اور انتظامات پر عمل کر رہی ہے اور جب کوئی معاہدہ طے پا جائے گا تو اس کے آغاز کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا۔
عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے مطابق حمدان نے اس بات کی تصدیق کی کہ چیزیں "مثبت سمت میں بڑھ رہی ہیں"۔
زیر حراست افراد کے نام
اپنی طرف سے بیرون ملک حماس کی قیادت کے ایک رکن ہشام قاسم نے تصدیق کی کہ متوقع جنگ بندی کے آغاز کی تاریخ دونوں طرف کے زیر حراست افراد کے ناموں کے حوالے سے انتظامات کی تکمیل سے منسلک ہے۔
کل بدھ کو اسرائیلی حکومت اور حماس نے قیدیوں کے تبادلے اور چار روزہ جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا، جس سے غزہ کی پٹی کے مکینوں کو جنگ شروع ہونے کے ڈیڑھ ماہ بعد سانس لینے کا موقع ملا۔
معاہدے کے تحت حماس غزہ میں زیر حراست 50 خواتین اور بچوں کو رہا کرے گی، اس کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں میں قید 150 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے گا۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر زاچی ہنگبی نے بدھ کی شام کہا تھا کہ قیدیوں کی پہلی کھیپ کو جمعہ سے پہلے رہا نہیں کیا جائے گا۔
-
حماس اور اسرائیل میں ممکنہ معاہدے کے تحت رہا ہونے والے فلسطینی کون ہیں؟
غزہ میں چار روزہ جنگ بندی کا معاہدہ اور اسرائیل کی طرف سے درجنوں اسرائیلی ...
مشرق وسطی -
لبنان سے اسرائیل کی طرف 50 میزائل فائر، کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ
غزہ کی پٹی میں گذشتہ اکتوبر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد اسرائیل اور لبنان کی ...
مشرق وسطی -
اسرائیل اور حماس جنگ بندی بہت مختصر وقت کے لیے ہونی چاہیے۔ سپین
سپین نے اسرائیل اور حماس کے درمیان انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کو مختصروقت کے لیے ...
بين الاقوامى