حماس نے جنگ بندی کے پہلے دن 13 اسرائیلی، 11 تھائی ااور ایک فلپائنی شہری کو رہا کردیا۔ اسرائیل نے بدلہ میں جیل میں قید 39 فلسطینی شہریوں کو رہا کیا ہے۔ فلسطین کی 24 خواتین اور 15 بچوں کو رہا کیا گیا۔ اپنے 13 یرغمالیوں کے واپس پہنچنے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو نے کہا کہ ہم تمام قیدیوں کی واپسی کے لیے پرعزم ہیں اور یہی جنگ کا ہدف ہے۔
انہوں نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں یہ بھی کہا کہ ہم غزہ میں جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلانٹ نے کہا کہ ہم نے ایک اہم پہلا قدم اٹھایا ہے۔ ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے اور مغوی لوگوں کو ان کے گھروں کو واپس کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ یہ مغویوں، ان کے خاندان کے افراد اور ریاست اسرائیل کے لیے ہمارا فرض ہے۔
#الجيش_الإسرائيلي ينشر فيديو لحظة دخول المحتجزين إلى الأراضي الإسرائيلية
— العربية (@AlArabiya) November 24, 2023
#العربية pic.twitter.com/Og9iyHBjGl
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرائی نے تصدیق کی کہ رہائی پانے والے قیدیوں کا پہلا گروپ اسرائیلی فوج کے دستوں کے ہمراہ اسرائیل پہنچ گیا ہے۔
ادرائی نے "ایکس" پر مزید کہا کہ ایک ایلیٹ آرمی یونٹ اور جنرل سیکیورٹی سروس (شاباک) کی ایک فورس ان مغوی افراد کے ساتھ ہے جو اسرائیلی علاقے میں ان کی طبی حالت کا ابتدائی جائزہ لینے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
اس سے قبل مصر نے غزہ کی پٹی سے حماس کی جانب سے رہا کیے گئے 24 قیدیوں کو ریڈ کراس سے موصول کیا تھا۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان میں تھائی باشندے بھی تھے جنہیں جنگ بندی کے فریم ورک کے اندر طے پانے والے تبادلے کے معاہدے کے فریم ورک سے باہر رہ کر رہا کیا گیا تھا۔
قطری ترجمان ماجد الانصاری نے "ایکس" پر کہا کہ ریڈ کراس کو غزہ کی پٹی میں حراست میں لیے گئے 24 شہری موصول ہوئے ہیں۔ اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ریڈ کراس نے بھی "ایکس" پلیٹ فارم کے ذریعے اس نمبر کی رہائی کی تصدیق کی اور کہا کہ ہم نے انہیں غزہ سے رفح کراسنگ پر منتقل کرکے رہائی میں سہولت فراہم کی ہے۔