غزہ کے لیے امداد کی اشد ضرورت ہے ۔ مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر غزہ امداد کی غیر معمولی ضروریات کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ امداد فراہمی کے لیے کوشاں ہے۔ یکم دسمبر سے اسرائیل اور حماس کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑ جانے کے بعد غزہ کے لیے امدادی سامان میں بہت کمی ہو گئی ہے۔ یہ بات جمعرات کے روز مصر کے ایک سینئیر سرکاری ذمہ دار نے بتائی ہے۔

مصر میں اطلاعاتی سروسز کے شعبے کے سربراہ دیا راشوان اس بات سے بہت پریشان ہیں کہ سات اکتوبر سے جاری جنگ غزہ میں امداد کی فراہمی کی اکیلی راہداری کے طور پر کام کر رہا ہے۔ جو غزہ میں خوراک سمیت دیگرضروریات پہنچانے کے لیے کافی نہیں ہے۔

واضح رہے غزہ میں خوراک کے علاوہ پانی ، ادویات ، کمبلوں اور ایندھن سمیت ہر ضرورت کی چیز اسی اکلوتی کھلی راہداری سے گذرنے والے ٹرکوں سے جا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق جب ایک ہفتے کے لیے جنگ میں وقفے چل رہے تھے تو رفح کی اس راہداری سے امدادی سامان یومیہ ایک سو سے دو سو ٹرکوں پر جارہا تھا۔ بدھ کے روز یہ امدادی سامان 80 ٹرکوں پر منتقل کیا گیا، جن میں دوسری انتہائی ضروری امدادی سامان کے علاوہ 69000 لٹر ایندھن بھی شامل تھا۔

اقوام متحدہ کے ساتھ مصر بھی اسرائیل کو یہ بار کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ امدادی سامان کی غزہ تک فراہمی کی اس رفتار اور مقدار کو بڑھانے میں تعاون کرے۔

اس بارے میں دیا راشوان کا کہنا تھا ، مصر کبھی اجازت نہیں دے گا کہ غزہ کی پٹی کو خالی ہونے دے ، جیسا کہ اسرائیلی فوجی حکام غزہ کی پٹی کو فلسطینی انخلاء کے ذریعے خالی کرانے کی کوشش میں ہے اور لوگوں کو جنوبی کی طرف دھکیلا جارہا ہے تاکہ وہ رفح کے راستے مصر کے صحرائے سینا میں داخل ہو جائیں۔

دوسری جانب غزہ میں شمالی گزہ کے بعد جنوبی غزہ میں اسرائیلی بمباری کی وجہ سے اب کوئی ایسی جگہ نہیں بچی جسے فلسطینی عوام کے لیے محفوظ قرار دیا جاسکے یا خود ٖفلسطینی اسے اپنے لیے محفوظ مان سکیں۔

واضح رہے 80 فیصد سے زائد اہل غزہ بے گھر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'اوچھا' کے مطابق' 19 لاکھ شہریوں کو غزہ کے اندر ہی بے گھر ہونے کے بعد ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔'

مصری ذمہ دار راشوان نے کہا ' فلسطینی عوام کی جبری نقل مکانی کی کوئی تجویز بھی عرب دنیا کو قبول نہیں ہے۔ 75 سال پہلے 1948 میں فلسطینی عوام کو سات لاکھ ساٹھ ہزار کی تعداد میں نقل مکانی کرنا پڑی تھی اور اسے آج بھی اہل فلسطین نکبہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اب اس سے بھی کہیں زیادہ فلسطینی نقل مکانی پپر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ '

راشوان کا کہنا تھا اسرائیل کی مغربی کنارے میں جاری کارروائیاں فلسطینیوں کو اردن کی طرف نقل مکانی پر مجبور کرنے کے لیے ہے۔ ایسی کوئی بات قبول نہیں کی جا سکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں