'کوئی محفوظ جگہ نہیں': جنوب میں اسرائیلی بمباری سے غزہ کے 80 فیصد سے زیادہ لوگ بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

غزہ کی پٹی میں تقریباً 1.9 ملین افراد کے اندرونی طور پر بے گھر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ لاکھوں لوگ اسرائیل کی بے رحمانہ بمباری کے دوران جنوب کے پرہجوم علاقے میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ کاری دفتر برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) کے مطابق غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے 80 فیصد سے زیادہ افراد اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے بیشتر نے شمال سے انخلاء کا حکم ملنے کے بعد پٹی کے جنوب کا رخ کیا ہے۔

نہایت وسیع پیمانے پر نقلِ مکانی

غزہ کے گنجان آباد جنوب میں خان یونس میں پناہ لینے والے لوگ اس ناممکن فیصلے کا سامنا کر رہے ہیں کہ آیا دوبارہ انخلاء کریں یا موت یا زخمی ہونے کا خطرہ مول لیں کیونکہ شہر شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔

اسرائیل نے کہا تھا جنوب محفوظ رہے گا۔ لیکن العربیہ کے مطابق اسرائیلی افواج کی جانب سے علاقے میں کارروائی شروع کرنے سے بہت پہلے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران کئی محلوں کو بار بار گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل اور حماس کے مابین جاری تنازع کے درمیان 6 دسمبر 2023 کو بے گھر فلسطینی رفح کے ایک کیمپ میں پناہ گزیں ہیں جنہوں نے اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ دیئے تھے۔ (رائٹرز)
اسرائیل اور حماس کے مابین جاری تنازع کے درمیان 6 دسمبر 2023 کو بے گھر فلسطینی رفح کے ایک کیمپ میں پناہ گزیں ہیں جنہوں نے اسرائیلی حملوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ دیئے تھے۔ (رائٹرز)

بین الاقوامی این جی او ایکشن ایڈ نے العربیہ کو ایک بیان میں کہا کہ اب اسرائیلی فوج کی طرف سے خان یونس شہر کے 20 فیصد علاقے کے لیے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

یہ شہر بحران سے پہلے 117,000 لوگوں کا مسکن تھا اور اب یہاں اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے اضافی 50,000 افراد 21 پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں۔

تنظیم نے العربیہ کو بتایا کہ غزہ کے 19 فیصد حصے پر محیط شہر کے مزید مشرقی حصے میں ایک علاقے کے لوگوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر جنوب کی طرف رفح یا دیگر مخصوص مقامات پر چلے جائیں۔

ایکشن ایڈ نے غزہ کی رہائشی ایک ماں یارا کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا، "آج میں ایک سے دوسری جگہ بھاگ رہی ہوں۔ میں چھ بار بے گھر ہوئی ہوں اپنے بچوں کو موت سے بچانے کی کوشش میں جو ہر جگہ ہمارا تعاقب کرتی ہے۔"

"اسرائیلی قابض افواج کی درخواست پر جنوب کی طرف میری نقلِ مکانی کی گئی کیونکہ ان نے کہا تھا کہ جنوب زیادہ محفوظ تھا۔ بدقسمتی سے بمباری نے ہمیں بھی نشانہ بنایا حتیٰ کہ گاڑی کے سفر کے دوران بھی۔ ہم [شمالی] غزہ سے جنوب کی طرف چلے گئے۔ یہ موت کا سفر تھا۔ بمباری ہمارے اردگرد تھی، ہمیں یقین نہیں آرہا تھا۔"

فوج نے کیو آر کوڈ والے ہزاروں کتابچے فضا سے نیچے گرائے جن میں بتایا گیا تھا کہ کون سی جگہیں محفوظ ہیں۔ تاہم محدود انٹرنیٹ یا اس کے بغیر غزہ کے باشندوں کی اکثریت کوڈز کو اسکین کرنے سے قاصر ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے کمشنر جنرل نے پیر کے روز خبردار کیا، اسرائیل جنوب میں بمباری کی ایک نئی مہم شروع کر کے "گذشتہ ہفتوں کی ہولناکیوں کو دہرا رہا ہے"۔

فلپ لازارینی نے ایک بیان میں کہا۔ "ہم نے بارہا کہا ہے۔ ہم پھر کہہ رہے ہیں۔ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے چاہے جنوب میں ہو یا جنوب مغرب میں، چاہے رفح میں ہو یا کسی یکطرفہ طور پر نام نہاد ’محفوظ زون‘ میں۔"

ناممکن حالات

ایکشن ایڈ کے مطابق جنوب میں پناہ لینے والے لوگ پہلے ہی وافر پانی، خوراک یا گرم کپڑوں کے بغیر تقریباً ناممکن حالات میں زندگی گذار رہے ہیں جبکہ اہم بنیادی ڈھانچہ تباہی کے دہانے پر ہے۔

اس سے بھی چھوٹے علاقے میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹھونس دینے سے صرف ان کے مصائب میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی بیماری کے خطرے میں بھی جو اس سے بھی بڑی انسانی تباہی کا سبب بنے گا۔

6 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کے کیمپ میں ایک خاتون باہر بچوں کے ساتھ بیٹھی ہے۔ (رائٹرز)
6 دسمبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی میں رفح کے کیمپ میں ایک خاتون باہر بچوں کے ساتھ بیٹھی ہے۔ (رائٹرز)

ایکشن ایڈ فلسطین کی ایڈوکیسی اینڈ کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر ریحام جعفری نے کہا۔ "دسیوں ہزار لوگ پہلے ہی شمال میں اپنے گھروں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور متعدد بار بے گھر ہوئے ہیں جن کو غزہ کے جنوب میں سفر کرنے کے لیے انتہائی خطرے کا سامنا ہے جہاں وہ سمجھتے تھے کہ محفوظ رہیں گے۔ لیکن غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔"

جعفری نے مزید کہا۔ "خان یونس اور جنوب کے دیگر علاقوں میں پناہ لینے والے لوگ ایک بار پھر مایوس کن حالات میں رہتے ہوئے مسلسل بمباری سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب ان کے دوبارہ منتقل ہونے کی امید ہے۔ وہ کہاں جائیں؟ وہ کیسے یقین کریں کہ غزہ میں کوئی جگہ محفوظ ہے؟"

جمعہ کو جنگ میں عارضی تؤقف ختم ہونے کے بعد سے صرف انتہائی محدود مقدار میں امداد اس پٹی میں داخل ہوئی ہے اور شدید لڑائی کی وجہ سے اس کا زیادہ تر حصہ ضرورت مندوں تک نہیں پہنچ سکا ہے۔

6 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک خیراتی گروپ کی طرف سے فراہم کردہ عطیہ کے مقام پر فلسطینی بچے کھانا جمع کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)
6 دسمبر 2023 کو غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک خیراتی گروپ کی طرف سے فراہم کردہ عطیہ کے مقام پر فلسطینی بچے کھانا جمع کر رہے ہیں۔ (اے ایف پی)

امدادی کارکنوں نے کہا ہے کہ خان یونس میں اتوار کو شدید بمباری کی وجہ سے امداد کی تقسیم زیادہ تر روک دی گئی۔

ایکشن ایڈ فلسطین کے ساتھ ایک نوجوان رضاکار والا نے کہا: "حقیقت میں کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ نہ غزہ میں اور نہ ہی جنوب میں، ہر طرف بمباری ہو رہی ہے۔ اگر آپ خوش قسمتی سے کیمپوں میں پہنچ بھی گئے تو ایک خیمے میں رہیں گے جو آپ کو دن کی گرمی اور رات کی سردی سے نہیں بچا سکے گا۔"

"یہ ایک المیہ ہے۔ لفظ کے ہر معنی کے لحاظ سے ایک آفت۔ ہزاروں بے گھر لوگ جن کے پاس کچھ بھی نہیں۔ کھانا نہ پانی۔ ان کے پاس جسم ڈھانپنے کے لیے کچھ نہیں۔ کچھ بھی نہیں۔ تو اگر بمباری انہیں نہ مارے تو اور بہت سی چیزیں مار دیں گی۔ سردی، بھوک پیاس یا یہ خوفناک حقیقت جو ہم جی رہے ہیں۔"

جنگ بندی کا مطالبہ

ایکشن ایڈ نے غزہ کے لاکھوں لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے جو سنگین حالات میں زندہ رہنے کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔

یو این آر ڈبلیو اے کے لازارینی نے بھی اسرائیل سے امداد، خوراک، پانی اور ایندھن کی وافر فراہمی کے لیے سرحدی گذرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ 6 دسمبر 2023 کو جنوبی اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری کے بعد دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے۔ (اے پی)
بدھ 6 دسمبر 2023 کو جنوبی اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری کے بعد دھواں اٹھتا نظر آ رہا ہے۔ (اے پی)

انہوں نے 4 دسمبر کو اپنے بیان میں کہا، "ہم اسرائیل کی ریاست سے کریم شالوم اور دیگر گذرگاہوں کو دوبارہ کھولنے اور جان بچانے والی انسانی امداد کی غیر مشروط، بلاتعطل اور بامعنی ترسیل میں سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسا کرنے میں ناکامی بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے۔"

"انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تؤقف کا خاتمہ پہلے ہی شہریوں کے لیے مزید مصائب، نقصان اور غم لے کر آیا ہے خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ ہم انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں