فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ کی طرف سے ویٹو کئے جانے کو فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم میں شریک ہونے کا اظہار کہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ غزہ میں بہنے والے بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے خون کا ذمہ دار امریکہ ہے۔
واضح رہے امریکہ بار بار غزہ میں مستقل جنگ بندی کی مخالفت کر چکا ہے اور اس سلسلے میں اسی موقف کا حامی ہے جو اسرائیل کا موقف ہے۔ البتہ امریکہ جنگ میں چھوٹے وقفوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔
جبکہ سلامتی کونسل میں جب بھی جنگ بندی کے حق میں قرارداد یا مطالبہ آیا امریکہ نے اس کی مخالفت کی۔ جیسا کہ ہفتہ کے روز ایک بار پھر امریکہ نے جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔ اس قرارداد کے حق میں پندرہ میں سے تیرہ ووٹ آئے تھے۔ برطانیہ نے اپنے ووٹ کا استعمال نہیں کیا تھا جبکہ امریکہ نے قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ امریکہ اور برطانیہ کا یہ رویہ اس کے باوجود ہے کہ غزہ میں سترہ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جس میں ستر فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
-
امدادی سامان غزہ پہنچانے کے لیے کرم شالوم راہداری پر آزمائشی سرگرمیاں شروع
اقوام متحدہ کے حکام نے بتایا ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے ...
مشرق وسطی -
سات اکتوبر سے اب تک تقریباً 5000 فوجی زخمی ہو چکے ہیں: اسرائیلی محکمہ دفاع
غزہ کی پٹی میں جنگ کے 64ویں دن ہفتے کے روز اسرائیلی وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے ...
مشرق وسطی -
"انہیں زندہ اور برہنہ در گور کردو"، یروشلم کے اسرائیلی ڈپٹی میئر کا اشتعال انگیز بیان
فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی لیڈروں کی حالیہ نفرت جس پیمانے پر سامنے آئی ہے، ماضی ...
مشرق وسطی