اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر بدھ کے روز اپنے اس اعلان کو دہرایا ہے کہ اسرائیل غزہ سے حماس کے مکمل خاتمے تک کوئی جنگ بندی نہیں کرے گا۔
اڑھائی ماہ سے حماس کے خلاف بر سر جنگ اسرائیلی وزیر اعظم نے بدھ کے روز اس وقت کہی ہے جب اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ وارسا نے قطری وزیر اعظم کے ساتھ جنگ بندی کے حوالے سے یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ اسرائیل 30 یرغمالیوں کے بدلے میں جنگ بندی کرنے کو تیار ہے۔ جبکہ ایک روز پہلے اسرائیلی صدر نے بھی حماس کے ساتھ جنگ بندی پر آمادگی کا اشارہ دیا تھا۔
نیتن یاہو نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا کہ ہم جنگ بند نہیں کریں گے جب تک کہ ہم اپنے طے شدہ اہداف حاصل نہ کر لیں۔ ہمارے اہداف میں حماس کا خاتمہ، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ سے اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کے خطرے کا امکان ختم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ اور مصر کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ممکنہ جنگ بندی کی تجاویز پر غور کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بھی غزہ میں جنگی وقفے کے لیے امکانی ووٹنگ کی تیاری میں ہے۔ اس قرارداد پر ووٹنگ سلامتی کونسل کے ارکان نے دو دنوں سے مؤخر کر رکھی ہے تاکہ قرارداد کے مسودے میں پائے جانے والے اختلاف کو دور کیا جاسکے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ میں ہر جگہ حماس کے عسکریت پسندوں پر حملے کر رہی ہیں۔ جو بھی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم جنگ کو روک دیں گے وہ حقائق کا ادراک نہیں رکھتا۔ ہم حماس پر آگ کے شعلوں کی طرح برس رہے ہیں اور حماس کے ساتھیوں پر دور اور نزدیک دونوں طرح سے حملہ کر رہے ہیں۔
-
30 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل کی عارضی جنگ بندی کی پیشکش
اسرائیلی حکام نے پیش کش کی ہے اسرائیل 30 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں عبوری جنگ ...
مشرق وسطی -
حماس کے سربراہ کی جنگ بندی مذاکرات کے لیے قاہرہ آمد
حماس کے قطر میں مقیم رہنما اسماعیل ہنیہ غزہ میں اسرائیل کے ساتھ گروپ کی جنگ میں ...
مشرق وسطی -
سلامتی کونسل نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق نئی قرارداد پر ووٹنگ موخر
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق نئی قرارداد پر ووٹنگ موخر ...
مشرق وسطی