مصر کے دارالافتاء کی طرف سے رواں سال کے دوران ریکارڈ فتووں کا اجراء

ملک میں سب سے زیادہ کیے جانے والے استفسارات میں شادی، فیملی امور اورعبادات سر فہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ہر سال کی طرح مصری دارالافتاء نے بتایا ہے کہ رواں سال کے دوران مختلف مذہبی امور پر پوچھے جانے والے فتاویٰ کی تعداد 16 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ پوچھے جانے والے فتوے شادی بیاہ اور فیملی امور سے متعلق ہیں۔

مصری دارالافتاء کی طرف سے جاری رپورٹ میں سال 2023 کےدوران جاری کردہ فتاویٰ کی تفصیلات درج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہریوں کی طرف سے دینی مسائل پر رہ نمائی کے لیے دارالافتاء سے رجوع کرنے کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے۔

مصرکے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے کہا کہ سال 2023ء میں فتووں کے صدور کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور شہریوں کی طرف سے دینی رہ نمائی سے متعلق استفسارات کا قرآن وسنت کی روشنی میں تسلی بخش جواب دیا گیا۔

رواں سال کے دوران دارالافتاء کی طرف سے جاری کیے گئے فتووں کی کل تعداد 1.6 ملین سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فتوے زبانی، ٹیلی فون پر، تحریری اور آن لائن فتوے شامل ہیں۔ یہ فتوے مرکزی دارالافتاء اور اس کی مجاز ذیلی برانچوں سے براہ راست، سوشل میڈیا پر یا شہریوں کی درخواستوں پرانہیں براہ راست دیے گئے۔

مفتی اعظم نے مزید کہا کہ ازدواجی اور خاندانی تعلقات، طلاق اور ذاتی حیثیت سے متعلق فتوے دارالافتاء کو سب سے زیادہ موصول ہوئے۔ ان کی مجموعی تعداد کل فتووں کا 65 فیصد تک پہنچ گئی جب کہ دوسرے نمبر پر عبادات سے متعلق امور پر استفسارات موصول ہوئےجن پر فتوے جاری کیے گئے۔

مفتی اعظم نے نشاندہی کی کہ دارالافتاء 2023ء کے دوران فتویٰ کونسلوں کے انعقاد کے ذریعے عوام سے براہ راست رابطہ بڑھانے کے لیے ملک بھر میں گورنریوں اور مساجد میں 1,000 سے زیادہ فتویٰ کونسلیں منعقد کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں