غزہ میں جنگ چوتھے مہینے میں داخل ہو رہی ہے اور دوسری جانب غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کے حوالے سے اسرائیلی وزراء کے موقف میں مزید سختی آ رہی ہے۔
اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر نے پٹی سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے مسئلے کو "وقت کا مسئلہ" قرار دیا۔
بن گویر نے غزہ سے رضاکارانہ نقل مکانی کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں فلسطینی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر نے امریکا کی رائے کی پرواہ کیے بغیر غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کی "نقل مکانی" کے مطالبے کی تجدید کی، جس میں امریکا کی طرف سے اس موقف کی مذمت کی گئی۔
بن گویر نے منگل کی رات "ایکس" پلیٹ فارم پر لکھا کہ "امریکا ہمارا بہترین دوست ہے، لیکن ہم سب سے بڑھ کر وہی کریں گے جو اسرائیل کی ریاست کے مفاد میں ہو۔ غزہ کے اطراف کے رہائشیوں (غزہ کی پٹی کی سرحدوں کے قریب اسرائیلی قصبوں) کو واپس جانے کی اجازت دے گا۔۔ ہم چاہتے کہ غزہ کے اطراف کے اسرائیلی اپنے گھروں کو واپس آئیں اور حفاظت سے زندگی گزاریں گے اور اسرائیلی فوج کے سپاہیوں کی حفاظت کریں گے‘‘۔
بین گویر نے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے حوالے سے امریکی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل امریکی پرچم پر ستارہ نہیں ہے۔
منگل کے روز امریکا نے دو اسرائیلی وزراء کی طرف سے حالیہ جنگ کے بعد غزہ میں یہودی آباد کاروں کی واپسی کے بارے میں بیانات کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی آبادی کو ہجرت کرنے پر مجبور کرنے کی مذمت کی تھی۔