اتوار کو حماس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں تحریک کے رہ نما صالح العاروری کے قتل کا اسرائیل سے بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔
حماس کے رہ نما العاروری گذشتہ منگل کو بیروت میں اسرائیلی بمباری میں مارے گئے تھے جس میں حزب اللہ کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
جنوبی نواحی علاقے میں حماس کے دفتر پر اسرائیلی ڈرون سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے۔
غزہ میں انسانی صورتحال کے حوالے سے حماس کے رہ نما اسامہ حمدان نے کہا کہ "غزہ کی پٹی میں 1.9 ملین سے زیادہ فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں"۔
حماس نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی کی آبادی کا 4 فی صد اندھا دھند اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک، زخمی یا لاپتہ ہے۔
#حماس تقول إن 4% من سكان قطاع #غزة بين قتيل ومصاب ومفقود
— العربية (@AlArabiya) January 7, 2024
#العربية pic.twitter.com/U5bcfx3sCD
حماس نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیوں سے مرنے والوں کی تعداد 29,722 ہو گئی ہے۔
غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے اتوار کو ایک مختصر بیان میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف 12 مزید "قتل عام" کا ارتکاب کیا، جس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 113 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے۔
عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ اسامہ حمدان نے کہا کہ اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے سے پیچھے ہٹ گئی ہیں اور صرف اس کے مغربی مضافات میں رہ گئی ہیں۔
حمدان نے بیروت میں پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ شمالی غزہ میں ہماری افواج ٹھیک ہیں اور اپنی پوزیشن پر ہیں۔ انہوں نے ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کے اس اعلان کو مسترد کردیا جس میں اس کا کہنا تھا کہ شمالی غزہ میں حماس کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔
حمدان نے نشاندہی کی کہ 7 اسرائیلی بریگیڈ جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں لڑ رہے ہیں مگر انہیں اب تک زمین پر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے‘‘۔