’شوق کے لیے کوئی عمر نہیں‘، پچاس سالہ سعودی کارٹون فلموں کا دیوانہ نکلا
بچپن سے کارٹون دیکھنے کا جنون پالنے والے سعودی نے کارٹون فلم کے3 ہزار ماڈل جمع کرلیے
کہتے ہیں کہ شوق پورا کرنے کے لیے کوئی عمر نہیں ہوتی۔ سعودی عرب کے ایک شہری نے اس کہاوت کو درست ثابت کیا ہے۔
پچاس سالہ سعودی شہری کو فلموں کا ایسا جنون ہے کہ اس نےاپنا حلیہ ایک کارٹون کردار کی طرح بنانے کے ساتھ اپنے گھرکو کارٹون کرداروں کے ماڈل سے بھر دیا ہے۔
پچاس سالہ شہری نے بتایا کہ وہ ’گرینڈائزر‘ کارٹون کے کردار سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے دنیا بھرسے اس کے کرداروں کے 3000 ماڈل حاصل کیے اور اپنے گھر کو میوزیم میں تبدیل کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ میں نے اس فلم کے کردار سے متعلق ہر چیز کو جمع کیا جس میں اعداد و شمار، کپڑے، فرنیچر اور یہاں تک کہ میگزین بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسّی کی دہائی میں جب پہلے سعودی چینل پر اس فلم کی ایک نئی قسط نشر ہوتی تھی تو گلیوں میں کوئی نہیں ملتا تھا۔ سب بچے اس کارٹون کو دیکھنے گھروں کے اندر ہوتے۔ ہماری پرورش اسی دور میں ہوئی تھی۔
خمسيني مهووس بشخصية غراندايزر لدرجة أنه اقتنى 3000 قطعة من حول العالم.
— إياد الحمود (@Eyaaaad) January 24, 2024
يقول: في الثمانينات عندما كانت تنزل حلقة جديدة في القناة السعودية الأولى لا تجد أحد في الشارع، لقد تربينا عليه، الناس ينتقدونني بسبب عمري لكن مهما كبرت هناك طفل بداخلي.pic.twitter.com/52QLOI2FM4
اس نے نشاندہی کی کہ میں نے اپنے بچوں کو کارٹون فلمیں دیکھنے کے لیے پالا ہے۔
انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "لوگ میری عمر کی وجہ سے مجھ پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میری عمر کتنی ہی کیوں نہ ہو جائے میرے اندر ایک بچہ موجود ہے"۔