اردن کی سرحد پر اتوار کے روز امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے میں تین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد گذشتہ روز [سوموار] کو دمشق کے جنوب میں سیدہ زینب کے علاقے میں ایرانی ملیشیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کے اہداف نشانہ بنایا گیا۔ سیدہ زینب کے مقام پر موجود ایرانی تنصیبات کو اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
"قدس فورس سے تعلق"
’العربیہ‘ اور ’الحدث‘ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دمشق پر اسرائیلی حملے میں ایرانی قدس فورس کی فلسطین شاخ سے تعلق رکھنے والے تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کی قیادت سعید یزیدی کر رہے ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ جن تنصیبات پر بمباری کی گئی وہ حماس اور اسلامی جہاد کو ہتھیار اور معلومات فراہم کر رہی تھیں۔
طائرات مجهولة تستهدف مقار تابعة لميليشيات #إيران في منطقة السيدة زينب بـ #دمشق.. المرصد السوري يكشف التفاصيل#سوريا#الحدث pic.twitter.com/zJI8ebnKm1
— ا لـحـدث (@AlHadath) January 29, 2024
ہمارے ذرائع نے اس سے قبل دمشق کے جنوب میں سیدہ زینب کے علاقے میں ایرانی ملیشیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر پر بمباری کی اطلاع دی تھی۔
چھ افراد کی ہلاکت
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے العربیہ/الحدث کو وضاحت کی کہ ایک اسرائیلی حملے نے سیدہ زینب کے علاقے میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ بمباری تین میزائلوں سے کی گئی جس میں حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں چھ عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔
دریں اثناء پاسداران انقلاب سے وابستہ ’تسنیم‘ خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری میں ایرانی مشاورتی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ایرانی تردید
دوسری جانب شام میں ایران کے سفیر حسین اکبری نے دمشق کے قریب اپنے ملک کے مشاورتی مرکز پر بمباری کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایرانی ہلاک نہیں ہوا۔
اگرچہ شام کے ایک سرکاری فوجی ذرائع نے اس سے قبل وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے "دمشق کے جنوب میں متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں متعدد ایرانی مشیران اور دیگر عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کہ املاک کو بھی نقصان پہنچا‘‘۔