عراقی حزب اللہ بریگیڈز کی جانب سے عراق اور شام میں امریکی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں معطل کرنے کے اعلان کے دو دن بعد ایک ایران نواز چینل نے ایک عجیب تبصرہ کیا ہے۔
"صابرین" چینل جو عراق میں مسلح دھڑوں سے قربت کے لیے جانا جاتا ہے نے جمعرات کو ٹیلی گرام پر ایک تبصرے میں اعلان کیا کہ وہ تا اطلاع ثانی اپنی نشریات روک رہا ہے۔
صابرين دگت الناقصة وراحت للحفافة 😂#صابرين_نيوز#العراق#الولايات_المتحدة_الأميركية #مقاولة_وتفليش#الحشد_الشعبي_الارهابي pic.twitter.com/Gk1ZZ5DMYV
— احمد الهيتي (@ahmedalhiti) February 1, 2024
وجہ نامعلوم
اگرچہ چینل کی نشریات روکنے کی وجوہات ابھی تک معلوم نہیں ہوسکی ہیں، لیکن اس تبصرے نے سوشل میڈیا پر تنقید کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔
’ایکس‘ پلیٹ فارم پر متعدد صارفین نے اس عجیب فیصلے کا مذاق اڑایا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ چینل اس وقت بند کیا گیا ہے جب امریکہ نے تہران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیا کے خلاف سخت حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکہ نے عراقی حزب اللہ بریگیڈز کو اردن کی سرحد پر ٹاور 22 نامی اڈے پر حملے کے بعد نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔
کچھ صارفین نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی فوجی وردی میں ایک "جعلی" تصویر سامنے آئی جو ملوث افراد کو مارنے کی تیاری کا اشارہ تھا۔ اس کے بعد چینل تیزی سے پیچھے ہٹ گیا!۔
ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ "مزاحمت کے محور سے اجتماعی فرارہے‘‘۔ ان کا اشارہ عراقی دھڑوں کی طرف تھا جو چند ماہ قبل "عراق میں اسلامی مزاحمت کے محور" کے نام سے متحد ہوئے تھے۔
یہ پیش رفت کتائب حزب اللہ کی جانب سے عراق اور شام دونوں میں امریکی اڈوں کے خلاف اپنے حملے روکنے کے دو دن بعد سامنے آیا ہے۔
اُردن کی سرحد پرامریکی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد ایران نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔