سعودی عرب میں 2023 کے دوران آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد 27 ملین رہی۔ جبکہ سعودی وزارت سیاحت نے اس دہائی کے اختتام یعنی 2023 تک سیاحوں کی اس تعداد کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ بات سیاحت سے متعلق حکام نے منگل کے روز بتائی ہے۔
یہ نیا سیاحتی ہدف مملکت کے تقریباً 4 سال پہلے آنے والے سیاحتی ویژن کے بعد سامنے آیا ہے۔ مملکت نے اس سے پہلے ہی سیاحت کے فروغ کے لیے غیر معممولی اقدامات کر رکھے ہیں۔ اس سلسلے میں ابھی بھی بہت سارے منصوبے جاری ہیں۔
وزیر سیاحت احمد الخطیب نے کہا 'اس سال ہمارے ہاں مجموعی طور پر سیاحوں کے آنے کی تعداد 100 ملین رہی ہے۔ جن میں سے 77 ملین مقامی سیاح تھے جبکہ بقیہ دوسرے ملکوں سے آئے تھے۔'
2030 تک سیاحوں کی مجموعی تعداد 150 ملین ہوجائے گی۔ جو پہلے سے طے شدہ سیاحتی ہدف 100 ملین سے زیادہ ہوگی۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سیاحت بطور خاص شامل ہے۔ یہ خام تیل کے علاوہ آمدنی حاصل کرنے کا ایک طویل مدتی منصوبہ ہے۔
سعودی عرب نے سرزمین حرمین پر حالیہ برسوں میں سینما گھروں اور خواتین و مردوں کے مخلوط محافل موسیقی اور کھیلوں کے سللسے میں پرانے قوانین کو نرم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بحیرہ احمر کے ساتھ بننے والے 'ریزورٹس' کی تکمیل کے مرحلے آگے بڑھنے کا امکان ہے۔
-
’بے بی ڈولفن‘ کی سعودی عرب میں اپنی ماؤں کے ساتھ تیرتے ہوئے ویڈیو وائرل
سعودی عرب میں بحیرہ احمر کی سیر کرنے کے لیے کیے گئے سفر میں کئی بچوں نے ڈولفن کی ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب میں مقامی طور پر اسمبل شدہ نئے ہاک جیٹ کو لانچ کردیا گیا
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے اتوار کو ہاک طیاروں کے بیڑے کی نئی شناخت ...
مشرق وسطی -
فیچ نے سعودی عرب کی کریڈٹ ریٹنگ ’A+‘ کر دی
کریڈٹ رینکنگ ادارے فیچ نے سعودی عرب کی کریڈٹ ریٹنگ ’A+‘ کردی ہے۔کریڈٹ رینکنگ کے ...
ایڈیٹر کی پسند