غزہ کی پٹی کے علاقے رفح پر جہاں لاکھوں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں اسرائیلی فوج نے حملے کی تیاری شروع کی ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ رفح پرحملہ انسانی تباہی کا باعث بنے گا، اسے ہر قیمت پر روکا جائے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ میں اپنی زمینی کارروائی کو وسعت دینے کے لیے پٹی کے جنوب میں واقع پرہجوم شہر رفح کو شامل کرنے کا کوئی بھی اقدام جنگی جرائم کے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔اس حملے کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا"۔
"جنگی جرائم"
ایک بیان میں اقوام متحدہ کے دفتر ’OCHA‘ کے ترجمان جینس لای نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ "بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت، گنجان آباد علاقوں پر اندھا دھند بمباری جنگی جرائم کے مترادف ہو سکتی ہے"۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب انسانی امور کے دفتر نے پیر کو رفح گورنری پر "حملموں میں اضافے" کا اشارہ دیا تھا، جہاں لاکھوں بے گھر فلسطینی وہاں جمع ہیں جب کہ خان یونس میں گھمسان کی لڑائی بھی جاری ہے‘‘۔
رفح میں بے گھر لوگوں کا ھجوم
اقوام متحدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ نقل مکانی 7 اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے رفح کی آبادی میں پانچ گنا اضافے کا باعث بنی۔
لائرکے نے خبردار کیا کہ "اس صورت حال کے تحت رفح میں شدید حملے عام شہریوں کی جانوں کے بڑے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہمیں اس سے بچنے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے"۔
"رفح کے رہائشیوں کا شمالی غزہ کی طرف انخلاء"
اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تل ابیب شہر پر ممکنہ حملے سے قبل رفح کے رہائشیوں کو شمالی غزہ کی پٹی میں منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے لیکن اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مارچ سے پہلے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔
مصری تشویش
اسرائیلی اخبار نے وضاحت کی کہ مصر نے "حال ہی میں اسرائیل کو سخت پیغامات بھیجے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کو غزہ سے سیناء تک جانے سے مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ خطرے میں پڑ جائے گا"۔
مصر نے واضح کیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کو سینا کی طرف دھکیلنے سے اتفاق نہیں کرے گا۔