غزہ میں امدادی سامان لے کر ایک ٹرک جس لمحے داخل ہوا وہ قتل عام میں بدل گیا جس میں 100 سے زائد فلسطینی ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
ایک فلسطینی شہری نے اسرائیلی حملے کے بارے میں بتایا کہ کیسے وہ معجزانہ طور پر بچ گیا جب شمالی غزہ کی پٹی میں نابلسی گول چکر کے قریب الرشید اسٹریٹ کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا تو عین اس وقت جیب میں رکھے کچھ سکوں نے اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کو سینے پر روک کر ان کی جان بچا لی۔
انہوں نے کہا کہ وہ امداد سے آٹے کا تھیلا وصول کرنے کے انتظار میں زخمی ہو گئے تھے اور ان پاؤں بھی زخمی ہوئے تھے۔
فلسطینی ٹیلی ویژن نے اس سے قبل خبر دی تھی کہ غزہ شہر کے جنوب مغرب میں واقع نابلسی گول چکر کو نشانہ بنانے والی اسرائیلی بمباری میں 40 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
فلسطینی میڈیا نے آج دن کے اوائل میں بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ان شہریوں کو نشانہ بنایا جو علاقے میں امدادی ٹرکوں کا انتظار کر رہے تھے۔
ہزاروں افراد امداد کے منتظر
دریں اثنا، یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ غزہ کے نابلسی گول چکر میں ہزاروں شہری گھنٹوں سے امداد کے منتظر ہیں اور ٹرکوں کے پہنچنے کے فوراً بعد اسرائیلی فورسز نے فائرنگ شروع کر دی۔
غزہ میں وزارت صحت نے کل، بدھ کو بتایا کہ غزہ پر اسرائیلی حملے میں مرنے والوں کی تعداد 29,954 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد زخمیوں کی تعداد 70,325 تک پہنچ گئی ہے۔
-
غزہ: امداد کے منتظر لوگوں پر بم برسا دیے، سیکڑوں فلسطینی جاں بحق اور زخمی
امداد کے لیے جمع فلسطینیوں پر حملہ سوچا سمجھا قتل عام ہے: فلسطینی میڈیا
مشرق وسطی -
اسرائیل: غزہ میں بیکریوں پر بمباری کرکے شہریوں سے آخری نوالہ بھی چھین لیا گیا
اسرائیل کی غزہ پر تقریباً پانچ ماہ سے جاری بمباری کے نتیجے میں جہاں ہر دوسری چیز ...
مشرق وسطی -
غزہ کے اسپتالوں میں پانی کی کمی، غذائی قلت سے بچوں کی اموات کی تعداد چھ ہو گئی
غزہ کی وزارتِ صحت نے بدھ کے روز بتایا کہ جنگ زدہ غزہ میں دو بچے "پانی کی کمی اور ...
مشرق وسطی