فلسطین اسرائیل تنازع

’اسرائیلی فوج نے ہمیں جان بوجھ کر نشانہ بنایا‘:غزہ کے نابلسی چوک کے متاثرین پھٹ پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جمعرات کی صبح پیش آنے والے اس سانحے کی بین الاقوامی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے جس میں غزہ شہر میں الرشید اسٹریٹ پر امداد کےحصول کے لیے جمع ہونے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تقریباً 112 فلسطینی جاں بحق اور ایک ہزارکے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

عینی شاہد زخمیوں کا دانستہ حملے کا الزام

انسانی امداد کے حصول کے لیے جمع ہونے والے فلسطینیوں پر حملے کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینیوں نےکہا کہ اسرائیلی فورسز نے ان پر اس وقت گولی چلا دی جب وہ اپنے اہل خانہ کے لیے امدادی سامان لینے کے لیے ٹرکوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے ہر طرف ناقابل بیان افراتفری پھیل گئی اور سڑکوں پر لاشوں اور زخموں کے ڈھیر لگ گئے تھے۔

غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال سے 4 زخمیوں نے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ان پرجان بوجھ کر فائرنگ کی۔ کچھ زخمیوں نےکہا کہ ان پر ٹینکوں اور ڈرونز کے ذریعے شیلنگ کی گئی۔

زخمی ہونے والے محمود احمد نے بتایا کہ وہ بدھ کی شام سے جمعرات کی صبح آنے والے قافلے کا انتظار کر رہے تھے۔ بھوک کی وجہ سے میں نے اس جگہ جانے کا خطرہ مول لے لیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ پنے بچوں کے لیے آٹا لینے کی امید میں پہنچے تھے۔

انہوں بتایا کہ جیسے ہی امدادی ٹرک شمالی غزہ میں پہنچے وہ ان کی طرف بڑھے، لیکن ایک ٹینک اور ڈرون نے ان پر حملہ کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بدھ کی شام سات بجے سے جمعرات کی صبح پانچ بجے تک امدادی ٹرکوں کے آنے تک وہیں رہے۔ ٹینکوں اور ڈرون نے فائرنگ شروع کی تو وہ بھی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کی مرہم پٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور گھنٹوں تک زخمیوں کے زخموں سے خون جاری رہا۔

جہاد محمد نے بتایاکہ وہ الرشید کوسٹل روڈ پر نابلسی گول چکر پر انتظار کر رہا تھا کیونکہ یہ جگہ شمالی غزہ تک امداد پہنچانے کا مرکزی راستہ ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے بمباری کرکے انہیں حیران کردیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ فوج نے جان بوجھ کر فائرنگ کیوں کی؟ جہاد محمد نے جواب دیا "یہ سچ ہے کہ ٹینک، سپاہی یا جہاز، وہ سب گولی چلا رہے تھے۔

سامی محمد جو اپنے بیٹے کے ساتھ الرشید روڈ پر آئے امدادی قافلے کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم الرشید لائن پر امداد کے انتظار میں تھے۔ انہوں نے لوگوں پر گولے برسانا شروع کر دیے۔"

عبداللہ جحا نے کہا کہ جب بمباری شروع ہوئی تو وہ اپنے والدین کے لیے آٹا لینے کی کوشش کر رہا تھا۔

115 اموات اور بین الاقوامی مذمت

قابل ذکر ہے کہ غزہ کی پٹی میں صحت کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ جمعرات کے واقعے میں 115 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ سب اسرائیلی فورسز کی اندھا دھند شلینگ سے مارے گئے۔

حکام نے مزید کہا کہ جو کچھ ہوا وہ قتل عام تھا۔

جب کہ اسرائیل نے اس واقعے میں خود کو بے قصور قرار دینے کے لیے حسب معمول ایک نئی کہانی گھڑی اور کہا کہ یہ لوگ تو بھگدڑ میں مارے گئے تھے۔

لیکن ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ فوجیوں نے ہوا میں انتباہی گولیاں چلائیں اور پھر وہاں سے ہٹنے سے انکار کرنے والوں پر فائرنگ کی۔

جب گولیوں کا نشانہ بننے والے لوگوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ گولیاں تعداد "محدود" تھی۔

یہ واقعہ اسرائیلی افواج کے زیر قبضہ غزہ کے علاقوں میں امداد کی تقسیم کی منظم خدمات کے خاتمے اور انتظام کے بغیر اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (UNRWA) کی سرگرمیوں میں خلل کو نمایاں کرتا ہے۔

اس واقعے پر اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے بھی سخت رد عمل سامنے آیا اور اس طرح کے واقعات کو ناقابل قبول قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں