اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی (اونروا) نے پیر کو کہا ہے کہ جبری نقلِ مکانی نے دس لاکھ سے زیادہ افراد کو غزہ کے شہر رفح چھوڑنے پر مجبور کیا۔۔
امدادی گروپوں نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی کنارے پر واقع یہ چھوٹا سا شہر تقریباً 10 لاکھ فلسطینیوں کی پناہ گاہ ہے جو انکلیو کے دوسرے حصوں پر اسرائیلی حملوں سے فرار ہو کر یہاں آ گئے۔
مئی کے اوائل سے اسرائیلی فوج رفح میں ایک محدود آپریشن کر رہی ہے جس کا مقصد حماس کے مزاحمت کاروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور غزہ کو چلانے والے اس فلسطینی گروپ کے زیرِ استعمال انفراسٹرکچر کو ختم کرنا ہے۔
اسرائیلی فوج نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ تقریباً 20 کلومیٹر (12 میل) دور ایک "توسیع شدہ انسانی زون" میں چلے جائیں۔
کئی فلسطینیوں نے شکایت کی ہے کہ وہ جہاں بھی جاتے ہیں اسرائیلی حملوں کا شکار ہوتے ہیں اور گذشتہ چند مہینوں سے غزہ کی پٹی میں کبھی یہاں اور کبھی وہاں منتقل ہو رہے ہیں۔
اونروا نے کہا، ہزاروں خاندان اب خان یونس شہر میں خراب شدہ اور تباہ شدہ سہولیات میں پناہ گزیں ہیں جہاں ایجنسی "بڑھتے ہوئے چیلنجز" کے باوجود ضروری خدمات فراہم کر رہی ہے۔
ایجنسی نے مزید کہا، "حالات ناقابلِ بیان ہیں۔"
-
غزہ جہاں بچوں کا بھوک اور قحط سے بچنا غیر ممکن، 80 فیصد بچے کھانے سے محروم
غزہ میں یہ تقریباً اب ہر ماں کی کہانی ہے جس کا بچہ شیر خوارگی کی عمر میں ہے اور اس ...
مشرق وسطی -
حماس کے یرغمالیوں میں شامل سمجھا جانے والا ایک اسرائیلی غزہ کے قریب مردہ پایا گیا
ڈولیو یہود کی باقیات کی شناخت کی تصدیق کر دی گئی
مشرق وسطی -
جوبائیڈن روڈ میپ، یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے غزہ کی تباہی روکنا شامل نہیں!
امریکی صدر جوبائیڈن کی غزہ میں جنگ بندی کے لیے دیے گئے روڈ میپ پر عمل کے لیے عالمی ...
مشرق وسطی