اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کو انتہائی اذیت ناک بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے گرفتار کیے گئے فلسطینیوں میں سے کم از کم 18 فلسطینیوں کو جیلوں میں بد ترین تشدد اور علاج کی سہولتوں سے محروم رکھ کر ہلاک کر دیا گیا ۔ ان میں ایک سینیئر آرتھو پیڈک فلسطینی ڈاکٹر بھی شامل ہیں ۔ مگر جو زندہ بچ گئے فلسطینیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ سخت اذیت ناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار اسرائیلی جیل سے رہائی پانے والے فلسطینیوں کی کہانیوں سے ہوتا ہے۔

رہائی پانے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں جیل حکام کی جانب سے منظم طریقے سے ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا ۔ حتیٰ کہ انہیں جان بوجھ کر انتہائی اہم طبی علاج سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے بھی ان واقعات کی تصدیق کی ہے۔ مگر اسرائیل ان رپورٹس کے بعد بھی اثر لینے کو تیار نہیں ہے۔ اسرائیلی فوج و جیل حکام کی طرف سے غزہ سے حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے سے حراست میں لیے گئے قیدیوں کے ساتھ بھی بڑے پیمانے پر بدسلوکی روا رکھی جاتی ہے۔

عطا شبت انہی فلسطینی اسیران میں سے ایک ہیں۔ وہ رہائی کے بعد کہتے 'ہمیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ہتھکڑیاں لگا کر تنگ پنجروں میں رکھا جاتا ہے۔ مار پیٹ، تشدد اور دھمکیاں اور ہراساں کرنا بھی معمول میں شامل ہے۔'

انہوں نے کہا 'ہم تو رہا ہوگئے مگر ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ باقی لوگوں کو بھی رہائی دلائیں وہ بڑی اذیت اور مصائب سے دوچار ہیں۔'

عطا شبت ان دنوں غزہ کے کمال عدوان ہسپتال میں داخل ہیں ۔ جہاں ان کا رہائی کے بعد علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا 'بہت سے زیر حراست افراد کا خیال ہے کہ ان کے اہل خانہ نے یہ سمجھا کہ وہ مر چکے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا ' اسرائیلی جیلوں میں لوگ مر رہے ہیں۔ ایسی اذیت جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ اس کا مزہ نہ چکھ لیں۔ دکھ جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ اس کا تجربہ نہیں کر سکتے۔'

تاہم اسرائیلی فوج نے اپنے روایتی انداز میں کہا ہے کہ 'وہ اسرائیل میں زیر حراست افراد کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مگر کسی خاص واقعے پر تبصرہ نہیں کرسکتی ہے۔ '

اسرائیلی فوجی ترجمان نے بدھ کو کہا کہ تحقیقات کی تفصیلات اس وقت شیئر کی جائیں گی جب تحقیقات تیار ہوں گی۔

دوسری جانب فلسطینی قیدیوں کی ایسوسی ایشن نے بدھ کے روز بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 18 فلسطینی اسرائیلی حراست میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں سے چھ کا تعلق غزہ سے تھا، جن میں آرتھوپیڈکس سرجن عدنان البرش بھی شامل ہیں۔'

سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی فوج نے صرف مقبوضہ مغربی کنارے سے 9170 سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔ جبکہ غزہ سے جبری گمشدہ افراد کی تعداد اس کے علاوہ ہے ، یہ بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں