اسرائیلی فوج کا رفح میں مغربی حصے تک ٹینکوں کی مدد سے نفوذ
اسرائیلی فوج نے رفح شہر میں اپنے ٹینکوں کے مزید گہرائی تک نفوذ کی کوشش کرتے ہوئے رفح کے مغربی حصے میں بھی ٹینک بھیج کر کارروائیاں کی ہیں۔
اس سلسلے میں گذشتہ رات بد ترین راتوں میں سے ایک تھی۔ جس میں بد ترین بمباری کی گئی۔ نیز اس زمینی حملے کی وجہ سے رفح کے گھروں اور خیموں میں موجود فلسطینی خاندانوں کو راتوں رات نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
رفح کے رہائشیوں کا کہنا ہے اسرائیلی افواج نے المواسی کے علاقے تک اپنی بمباری کا دائرہ بڑھا دیا ہے۔ یہ سلسلہ ساحل سمندر تک چلا گیا۔
اس سے پہلے اسرائیلی فورسز نے بھی اعلان کر رکھا تھا کہ المواسی کا علاقہ انسانی بنیادوں پر جنگ سے محفوظ قرار دیا تھا۔ حتی کہ اس حوالے سے اسرائیلی فوج نے جب مئی میں رفح پر زمینی حملہ شروع کیا تو نقشے بنا کر واضح کیا تھا کہ یہ علاقہ انسانی بنیادوں پر جنگ سے محفوظ ہو گا۔
اب اسرائیلی فوج نے اس علاقے پر بمباری کے بعد بمباری کی تردید کر دی ہے کہ اس نے انسانی بنیادوں پر محفوظ قرار دیے گئے علاقے میں بمباری نہیں کی ہے۔
اسرائیل نے اس کے ساتھ ہی مانا ہے کہ اس کے حملے کا مقصد رفح میں حماس کے اب تک برقرار لڑاکا یونٹوں کا صفایا کرنا تھا۔
واضح رہے رفح شہر میں سات مئی کے اسرائیلی حملے سے پہلے تقریبآ پندرہ لاکھ بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دی تھی۔ قدمی شروع ہونے سے پہلے دس لاکھ سے ان میں سے زیادہ تر بے گھر فلسطینی اب دوبارہ شمال میں وسطی غزہ کی پٹی میں خان یونس اور دیر البلاح کی طرف چلے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ رفح پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہے،اسرائیلی فوج کے مطابق گزشتہ روز بھی ہتھیاروں کو تلاش کی ہے اور بہت قریب جا کر کی گئی لڑائی میں فلسطینی بندوق برداروں کو ہلاک کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پچھلے ایک روز کے دوران غزہ کی پٹی میں 45 اپداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے دوران حماس کے عسکری ونگ کے عسکری ڈھانچے اور مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
واضح رہے اسرائیل بار بار کہہ چکا ہے کہ حماس کے خاتمے کے بغیر جنگ ختم نہیں کرے گا۔اس کوشش میں اسرائیلی جنگ 9 ویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور غزہ کا بڑا حصہ تباہ کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ پھر بھی حماس اس کے سامنے موجود ہے۔ حماس نے اپنے آپ کو کافی لچکدار ثابت کیا ہے اور ان علاقوں میں پھر سے موجود ہے جہاں اسرائیلی فوج نے جنگی کارروائی مکمل کرکے اپنا انخلا کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔ وہاں اب دوبارہ سے حماس کی موجودگی اسے پرہشان کر رہی ہے۔
جنگ بندی کی امریکی تجویز
حماس نے امریکی جنگ بندی کی نئی تجویز کا خیرمقدم کیا لیکن اس میں کچھ ترامیم بھی تجویز کی ہیں۔ مزاحمتی گروپ نے اپنے واضح موقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے ذریعے جنگ کا خاتمہ یقینی بنانا لازمی ہوگا۔ اسرائیل جنگ کا خاتمہ فی الحال مسترد کرتا ہے۔