’’مصر کی رفح راہداری پر اسرائیلی فوجی کنٹرول قابل قبول نہیں ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کو نو ماہ ہونے کے قریب ہیں، بڑے پیمانے پر تباہ کن پٹی میں اسرائیلی بمباری اور لڑائی بدستور جاری ہے۔

فلسطینیوں کے لیے دباؤ کا ماحول

مصر نے بار ہا اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی کے علاقے جنوبی رفح میں سرحدی راہداری پر اسرائیلی کنٹرول اس کی بندش کا باعث بنی اور امدادی ٹرکوں کے داخلے میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں_

مصر نے ان اسرائیلی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تل ابیب فلسطینیوں پر دباؤ کا ماحول پیدا کرتا ہے۔

مصر کے وزیرِ خارجہ سامح شکری نے بدھ کو قاہرہ میں اپنے یمنی ہم منصب شائے محسن الزندانی سے ملاقات کے دوران کہا کہ رفح راہداری پر اسرائیل کا کنٹرول انسانی امداد کی روانی میں تعطل کا باعث بنا۔

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی پٹی پر جنگ مغربی کنارے اور یروشلم کی صورتِ حال سے الگ تھلگ نہیں ہے۔

مصری وزیرِ خارجہ نے جاری کشیدگی کے اثرات سے بھی خبردار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس سے تنازع کے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے جس کے خطے کی سلامتی اور استحکام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

معیشت اور سلامتی کی شریان

یہ قابلِ ذکر ہے کہ قاہرہ نے غزہ کی پٹی کے ساتھ رفح سرحدی راہداری چلانے سے انکار کر دیا جب تک اس راہداری کے فلسطینی جانب سے اسرائیلی انخلاء نہ ہو۔ فلسطینی حصہ اس پٹی کے لیے ایک اہم شریان ہے اور تقریباً نو ماہ سے جاری جنگ اور اسرائیلی محاصرے کی روشنی میں یہاں قحط کا خطرہ ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے پوری پٹی پر فوجی قبضہ جاری رکھنے کی دھمکی کے بعد مصر کی جانب سے یہ تصدیق سامنے آئی ہے۔

رفح راہداری مصر اور غزہ کی پٹی کے درمیان سرحد پر ایک اقتصادی اور حفاظتی شریان کی حیثیت رکھتی ہے جو اس پٹی میں انسانی امداد کے داخلے اور اس سے مسافروں اور زخمیوں کے اخراج میں سہولت فراہم کرتی ہے۔ تاہم سات مئی کو اسرائیلی فوج کے رفح راہداری کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے قاہرہ نے اس حوالے سے تل ابیب کے ساتھ رابطہ معطل کر دیا ہے۔

مصر 2005 میں طے پانے والے راہداری معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کرتا ہے جس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی یورپی نگرانی میں راہداری کا انتظام کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں