اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ایک مرتبہ پھر جنوبی غزہ اور رفح سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کا حکم جاری کر دیا ہے کہ فلسطینی عوام اپنے گھر اور علاقے خالی کر کے نکل کر چلے جائیں۔
اسرائیلی فوج کے اس نئے حکم نامے میں خان یونس کی آبادی کے کچھ حصے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اس جبری انخلا کے حکم پر عمل کر کے کچھ لوگوں نے ایک بار پھر اپنے علاقے اور رہائش کو چھوڑ دیا ہے۔ لاکھوں فلسطینی رفح پر اسرائیلی حملے سے پہلے ہی رفح سے جبری طور پر نکالے جا چکے ہیں۔ رفح پر اسرائیل کا زمینی حملہ سات مئی سے جاری ہے۔
اسرائیلی فوج نے تازہ جبری انخلا کے لیے سوشل میڈیا پر حکم جاری کیا ہے۔ اس حکم کے تحت القرارہ، بنی سہیلہ اور دیگر قصبے شامل کیے گئے ہیں۔
یہ حکم اسرائیلی فوج کے اس بیان کے محض چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ خان یونس سے 20 اسرائیلی علاقے میں فائر کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ یہ راکٹ حملہ فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد کی طرف سے فائر کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اسرائیلی بمباری سے بھی متعلق علاقوں کو فوری نشانہ بنایا گیا تھا۔
بنی سہیلہ کے رہائشی احمد نجار نے کہا ہے 'بار بار کے جبری انخلا اور اسرائیلی بمباری نے خوف اور تشویش کی لہر کو پھر سے تیز کر دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا اس طرح جبری طریقے سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ جبکہ سات اکتوبر سے لے کر جولائی سے پہلے تک 37900 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ جن میں بہت بڑی تعادفلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔