ایرانی انتخابات

آپ نے کوئی کمپنی نہیں چلائی، حکومت کیسے کرسکتے: پیزیشکیان کی سعید جلیلی پر تنقید

پیزیشکیان کے پاس ملک چلانے کا کوئی منصوبہ نہیں: سعید جلیلی، ایرانی صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کے دو صدارتی امیدواروں نے ملک کے مسائل حل نہ ہونے کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے۔ ایران میں مرحوم صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد نئے صدر کے الیکشن کا پہلا مرحلے میں کوئی بھی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا۔ اب دوسرے مرحلے میں دو امیدواروں کے درمیان براہ راست مقابلہ جمعہ کو ہوگا۔

دونوں امیدواروں مسعود پیزیشکیان اور سعید جلیلی کے درمیان عوامی ٹیلی ویژن پر دو گھنٹے سے زیادہ تک مباحثہ ہوا۔ اصلاح پسند امیدوار پیزیشکیان نے اپنے حریف جلیلی جو ایک سخت گیر رہنما اور سابق جوہری مذاکرات کار ہیں، کو مبینہ طور پر تجربہ کی کمی کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا۔ پیزیشکیان نے استفسار کیا مجھے بتائیں، آپ کی واحد کمپنی کون سی ہے؟ کبھی ایسی کوئی چیز چلائی ہے جو آپ کو ملک چلانے کے قابل بنائے؟

سعید جلیلی کو 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ میں اپنی ٹانگ کھونے کے بعد "زندہ شہید" کا لقب دیا گیا تھا۔ وہ مغربی سفارت کاروں میں اپنے تبلیغی لیکچرز اور سخت گیر موقف کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر اور چیف جوہری مذاکرات کار سمیت بہت سے عہدوں پر براجمان ہو کر اپنا دفاع کیا۔

پیزیشکیان نے اپنے حریف سے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے منصوبوں کے بارے میں بھی پوچھا اور جلیلی نے جواب دیا کہ وہ تفصیل میں جائے بغیر اس معاملہ سے کمزوری کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقت کی بنیاد پر نمٹیں گے۔

سعید جلیلی نے کہا کہ پیزشکیان کا ملک چلانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کی صدارت ملک کو "پسماندہ پوزیشن" میں دھکیل دے گی جیسا کہ نسبتاً اعتدال پسند سابق صدر حسن روحانی (2013-2021) کے دور میں ہوا تھا۔ روحانی نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا جس کے بدلے میں ایرانی یورینیم کی افزودگی روک دی گئی۔

بعد ازاں 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ٹرمپ نے امریکہ کو اس تاریخی معاہدے سے نکالنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد اچانک ایران پر سخت پابندیاں بحال کر دی گئیں۔ سعید جلیلی نے کہا کہ عوام کی حمایت سے ایران سالانہ 8 فیصد کی اقتصادی ترقی حاصل کرے گا۔ پیزشکیان نے اس وعدے کا مذاق اڑایا اور کہا کہ حکام کو اجازت دی جانی چاہیے کہ اگر وہ اسے پورا کرنے میں ناکام رہے تو انہیں پھانسی دے دیں۔

سعید جلیلی نے کہا کہ اگر ایران کامیاب معیشت چاہتا ہے تو اسے متحرک خارجہ پالیسی کو نافذ کرنا ہوگا۔ صرف امریکہ اور مغربی دنیا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا یہ خارجہ پالیسی صرف ان ممالک تک محدود نہیں ہونا چاہیے جن سے ایران کو مسئلہ ہے۔ ایران کو دنیا کے 200 دوسرے ممالک کی طرف دیکھنا چاہیے جہاں غیر ملکی تعلقات کو بہتر ہونا چاہیے۔

پیزشکیان نے وضاحت کی کہ ان کی خارجہ پالیسی دنیا کے ساتھ رابطے پر مبنی ہوگی۔ اس میں پابندیوں کو ہٹانے کے لیے مذاکرات بھی شامل ہوں گے۔ دونوں نے ملک میں غریبوں، محنت کشوں، خواتین، نسلی گروہوں اور مذہبی اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا۔ انہوں نے جمعہ کے ووٹ کے دوران بے حسی کا مظاہرہ کرنے والی نوجوان نسل کو راغب کرنے کی کوشش میں بہتر اور تیز تر انٹرنیٹ فراہم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔

پیزشکیان اور سعید جلیلی نے یہ بھی کہا کہ پہلے راؤنڈ میں کم ٹرن آؤٹ - اسلامی جمہوریہ کی تاریخ میں انتخابات میں اب تک کا سب سے کم ٹرن آؤٹ - کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ پیزشکیان نے مزید کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ تقریباً 60 فیصد ووٹرز اپنا ووٹ نہیں ڈالتے۔ دونوں امیدواروں کے درمیان دوسرا اور آخری مباحثہ آج منگل کو ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں