لبنان کی زمینی ٹریفک غزہ میں ظاہر ہونے لگی ، کیا اسرائیل نے گوگل میپ کو ہیک کر لیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ٹیکسی سروس 'اوبر' کے ڈرائیور خلیل بیروت میں موجود تھے۔ لیکن گوگل میپ نے اسے غزہ کی پٹی میں دکھایا۔ اسرائیل نے جی پی ایس میں خرابی کر کے لبنان میں نظام زندگی کو خراب کر دیا ہے۔

36 سالہ خلیل نے کہا 'ہم پچھلے پانچ ماہ سے اس مسئلے میں گھرے ہوئے ہیں۔'

خلیل نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا 'اس مسئلے کی وجہ سے بعض اوقات ہم بالکل بھی کام نہیں کر پاتے ہیں۔ یقینی بات ہے کہ ہم پیسے نہیں کما رہے۔'

خیال رہے پچھلے کئی ماہ سے لبنان کے شہری اس مسئلے سے دو چار ہیں۔ بیروت کے ہوائی اڈے کے آس پاس کی فضائی حدود میں لبنان کی خودمختاری ختم کرنے سے متعلق شکایت اقوام متحدہ میں ماہ مارچ میں درج کرائی گئی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل نے گوگل میپ کو ہیک کر لیا ہے۔

خلیل نے 'اے ایف پی' کو سکرین شاٹس دکھائے جن کے مطابق خلیل موجود تو بیروت میں تھے لیکن میپ انہیں 300 کلومیٹر دور رفح شہر میں دکھا رہا تھا۔ جبکہ بعض سکرین شاٹس ایسے تھے جن میں میپ خلیل کو مشرقی لبنان میں دکھا رہا تھا۔

خیل نے بتایا کہ ایک مسافر نے اوبر بک کرائی اور فون کر کے پوچھا کہ کیا آپ مشرقی بعلبیک میں ہیں؟ خیال رہے بعلبیک مشرقی لبنان میں واقع شہر ہے۔ تو میں نے اس سے کہا 'نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں دو منٹ میں آپ کے پاس پہنچنے والا ہوں۔'

'اے ایف پی' کے یروشلم میں موجود ایک صحافی نے بتایا کہ میپ مجھے قاہرہ میں دکھاتا ہے جو یہاں سے 44 کلومیٹر دور ہے۔

اسی طرح بعض دیگر صحافیوں نے بتایا کہ جی پی ایس میں ہونے والی یہ مداخلت قبرص تک پہنچ چکی ہے۔ خیال رہے قبرص لبنان سے 200 کلومیٹر دور کی مسافر پر ہے۔ وہاں موجود 'اے ایف پی' کے نمائندے نے بتایا کہ میپ انہیں بیروت کے ہوائی اڈے میں دکھاتا ہے۔

مشرقی وسطیٰ سے متعلق انٹیلیجنس کمپنی 'رین' نے کہا اسرائیل جی پی ایس جیمنگ کو حزب اللہ کے مواصلات میں خلل و خرابی ڈالنے کے لئے استعمال کر رہا ہے۔'

'رین' کے مطابق جی پی ایس میں خرابی پیدا کرنے سے ڈرون اپنے اصل ہدف تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس مقصد کے لیے جی پی ایس سپوفنگ کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں