فلسطینی تنظیم حماس کے سیاسی دفتر کے رکن محمد نزال نے باور کرایا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں تنظیم سنجیدہ ہے تاہم اس حوالے سے تفصیلات نہیں دی جائیں گی تا کہ مذاکرات ناکام نہ ہو جائیں۔
العربيہ / الحدث کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نزال نے بتایا کہ فائر بندی کی تجویز اور تبادلے کے سمجھوتے میں بنیادی نوعیت کی ترامیم نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فائر بندی بنیادی چیز ہے اور اسی لیے پہلے مرحلے میں 6 ہفتوں کی فائر بندی کی شرط رکھی گئی ہے۔
محمد نزال کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ذاتی وجوہات کی بنا پر جنگ بندی نہیں چاہ رہے ہیں اور انہوں نے تنظیم کے ہتھیار ڈالنے کی شرط رکھی ہے۔ مزید یہ کہ وساطت کاروں نے غزہ کے حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت کے لیے حماس کے ساتھ رابطے رکھے ہیں۔ نزال نے بتایا کہ فلسطینی عوام فائر بندی اور امداد کا داخلہ چاہتے ہیں۔ حماس نے ہمیشہ عوام کے مطالبات کی رعایت کی ہے۔
نزال کے مطابق فلسطینی مسلح گروپوں نے حماس کو اختیار دیا ہے کہ وہ غزہ کے حوالے سے مناسب فیصلے کرے۔ جنگ کے بعد حماس کے بعد دو راستے ہوں گے پہلا سول اتھارٹی اور دوسرا انتخابات کا انعقاد !