لبنانی طلبا کو لبنان-اسرائیل کشیدگی کے درمیان امتحانات کی فکر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

جنوبی لبنان کے شہر نباتیہ میں سخت دھوپ میں کھڑے طلبہ اپنے امتحان کے بعد ایک دوسرے سے محو گفتگو ہیں۔ ان کے سکول کے اوپر سے ایک اسرائیلی جنگی طیارہ نچلی پرواز کرتے ہوئے گزرا جس سے سائونڈ بیرئیر ٹوٹ گیا اور نیچے بیٹھے طلبا اور والدین میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

سکول کے باہر اپنے بیٹے ہادی کا انتظار کرنے والی ایک ماں نے' العربیہ' سے بات کی اورکہا' کل، میرا بیٹا امتحان دینے نہیں آیا تھا ،کیونکہ ہم جس صورتحال میں رہتے ہیں۔ اس کا کوئی دوسرا تصور نہیں کرسکتا۔ ' ہادی کا تعلق ایک سرحدی گاؤں کفارشوبا سے ہے - جو جنوبی لبنان کا دوسرا بڑا گاؤں ہے - جب جب نو ماہ پہلے سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان غزہ جنگ کے بعد دو طرفہ جھڑپیں شروع ہوئیں، تب سے یہ گاؤں بھی مسلسل اسرائیلی گولہ باری کی زد میں ہے۔

اکتوبر سے تقریباً روزانہ سرحد پار سے فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، دونوں نے زیادہ تر سرحدوں کے قریب واقع قصبوں اور دیہاتوں کو نشانہ بنایا ہے۔تاہم، اسرائیل نے اس سال کے آغاز سے ہی شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے، جن میں نباتیہ اور صور جیسے علاقے بھی شامل ہیں۔

سکول کے باہر کھڑے طلبہ نو عمری کے اواخر میں نوجوانی کی دہلیز پر ہیں۔ اس لیے ان کے امتحانوں کی اہمیت ان کی کلاسز کی وجہ سے بڑھ گئی ہے کہ اب ان میں سے بعض کو کالج کی زندگی میں داخل ہونا ہے۔ مگر اس چیلنج سے بڑھا ہوا چیلنج یہ ہے کہ جنگی ماحول اور اسرائیلی بمباری سے کیونکر بچیں۔ گویا صرف اپنے کیرئیر اور مستقبل کی فکر نہیں زندگی کی بھی فکر دامن گیر ہے۔

سرحد سے 50 کلومیٹر سے زیادہ دور ایک شہر ہے جہاں سرحدی بستیوں کے بے گھر افراد کی میزبانی کی جاتی ہے - لیکن امتحان میں بیٹھنے کے لیے طلبہ یہاں بھی ہر بار اپنی جان خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

نباتیہ میں ایک ماں نے ' العربیہ ' سے بات کرتے ہوئے کہا 'ہم اپنے بچوں کو نقصان کی راہ میں ڈال رہے ہیں ہمارے علاقے میں گڑگڑاہٹ پیدا کرتے اسرائیلی جنگی طیارے ہر روز ہمارے سروں پر سے بھی اور گھروں کی چھتوں سے بھی گذرتے ہیں۔ اسرائیلی جنگی جہاز آتے اور بمباری کرکے چلے جاتے ہیں۔

مرجاون کی رہائشی ایک ماں نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے' العربیہ کو اپنے اور اپنے بچوں پر بیتنے والی بپتا سنائی ، اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی موجود تھی، جس کی زندگی کے لیے ماں پریشان تھی۔ انگریزی کو بتایا۔ اس کی بیٹی بھی تھی۔

مرجاون لبنان کا جنوبی ضلع ہے، اسی کے ایک گاؤں قلعہ سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے 'العربیہ' کو بتایا کہ ہم گاڑی چلاتے ہوئے بہت تیزی سے ایک طرح سے بھاگ کر یہاں آئے ہیں۔ کہ نہیں معلوم راستے میں کہاں اسرائیلی جہازوں کی بمباری کا نشانہ بن جائیں۔

لبنان میں زیادہ تر سکولوں کے طلبہ نے پچھلے کچھ برسوں کے دوران ایک مشکل تعلیمی سفر کیا ہے، بالکل پتھریلی زمین کا مشکل سفر۔ جس میں ملک کو بڑے پیمانے پر مظاہروں سے لے کر وبائی خطرہ اور اب معاشی بحران سے جڑا ہوا جنگی ماحول ہے۔ لبنانی طلبہ کے لیے ان سب بحرانوں میں گھرا ہوا امتحان یقینا ایک زیادہ مشکل امتحان ہوگا۔

اٹھارہ سالہ لمیتا نے بھی 'العربیہ' سے بات کی کو بتایا 'میں نباتیہ کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں پڑھتی ہوں، لیکن اب جنگی ماحول کی وجہ سے ہر روز سفر کرنا مشکل تھا کیونکہ اسرائیل اب راستوں پر بھی بمباری کر رہا ہے۔ ' لمیتا گزشتہ تعلیمی سال کے دوران بھی اپنی کلاسوں میں مشکل سے ہی شرکت کر سکی تھیں۔ لمیتا کہہ رہی تھیں۔ 'جنگی ماحول نے ہمیں سکول جانے نہیں دیا، پھر آن لائن کلاسز کی مجبوری تھی۔ ' وہ کہہ رہی تھیں لیکن سب کے پاس انٹر نیٹ سہولت ناممکن ، کئی جگہوں پر انٹر نیٹ کی سروس خراب ہونے سے آن لائن کلاسزبھی کار دشوار رہا۔'

یہاں ان سرحدی قصبوں میں نقل مکانی سے متعلق کوئی سرکاری اعداود شمار نہیں لیکن اندازہ ہے کہ تقریباًایک لاکھ کے قریب لبنان کے 100,000 لوگ سرحدی علاقوں سے بے گھر ہو گئے، اگر وہ یہ علاقہ نہ چھوڑتے تو اسرائیلی بمباری کے باعث قبروں میں ہو سکتے تھے۔ کہ اسرائیلی بمباری تقریباً ہردوسرے روز کی جاتی ہے۔

بہت سے لبنانی شہری پناہ گزینوں کے کیم میں یا رشتہ داروں کے ساتھ رہتے ہیں، اور کچھ کرائے کے اپارٹمنٹس میں ہیں ۔لیکن یہ ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہے ہیں ۔

جنوبی لبنان کے رہنے والے لوگ اسرائیلی بمباری اور سرحدی جھڑپوں کے باعث کہتے ہیں 'ہماری زندگیاں مکمل بدل چکی ہیں۔ لمیتا نے کہا 'سارا دن دھڑکا لگا رہتا ہے کہ بمباری ہو گی تو ہم زندہ رہیں گے یا نہیں رہیں گے۔'

بدر شبلی کفارشوبہ کے رہنے والے ہیں اورآجکل امتحانات کے لیے نباتیہ میں ہیں، ان کا کہنا تھا' اسرائیلی بمباری کی آوازیں سن سن کر بے سدھ سے ہو گئے ہیں ۔'

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان طویل ترین مدت پر پھیلی سرحدی جھڑپیں ایک بڑی کشیدگی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ خطرہ ہے کہ ایک جنگ بھی چھڑ سکتی ہے۔ مگر ایسا ہو گیا تو ان لبنانی طلبہ کے امتحان اور کیرئیر پر بھی یہ جنگ آگ بن کر برسے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں