برطانوی وزیراعظم کا نیتن یاہو کو پہلا فون: لبنانی سرحد کی صورتحال پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

برطانیہ کے وزیراعظم نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے وزیراعظم بننے کے بعد پہلی بار فون کال پر رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحد کی صورتحال پر گہری تشویش ہے اور یہ سب فریقوں کے لیے الارمنگ ماحول ہے۔ یہ بات ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان نے ٹیلیفون کال کے بعد میڈیا کو بتائی۔ کیر سٹارمر نے اسرائیلی ہم منصب سے یہ گفتگو اتوار کے روز کی ہے۔

دریں اثناء لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کی شمالی سرحد پر 20 راکٹ فائر کیے ہیں۔ جن کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ حزب اللہ کی طرف سے یہ حملے 7 اکتوبر کے بعد سے جاری ہیں۔ اس لبنانی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ یہ حملے حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کر رہے ہیں۔

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تقریباً ہر روز سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔ فریقین کے درمیان 2006 کے بعد کشیدگی کی یہ سب سے شدید مثال اور طویل ترین سرحدی جھڑپیں ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان کے مطابق کیر سٹارمر نے اس موقع پر غزہ میں فوری جنگ بندی پر بھی زور دیا اور انسانی بنیادوں پر غزہ میں جنگ زدہ لوگوں تک امداد کی رسائی کو تیز کرنے کے لیے کہا۔

اس دوران وزیراعظم کیر سٹارمر نے نیتن یاہو سے مسئلے کے مستقل اور طویل مدتی حل کے لیے دو ریاستی حل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ نیز فلسطینی اتھارٹی کو مالیاتی وسائل کی فراہمی پر زور دیا تاکہ وہ اپنے انتظامی امور کو چلا سکیں۔

خیال رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے لیے قطر، امریکہ اور مصری مذاکرات کار کوشش اور رابطے میں ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ غزہ میں جاری بدترین جنگ میں رکاوٹ پیدا ہو سکے گی۔

برطانوی وزیراعظم کے ترجمان نے کہا 'وزیراعظم نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی فون پر بات کی اور انہیں کہا کہ وہ اپنی امن کی خواہش پر مبنی پالیسی کے ساتھ ہیں اور فلسطینیوں کے ناقال تردید حقوق کے اپنے مؤقف پر بھی قائم ہیں۔'

خیال رہے اب تک غزہ کی اس جنگ میں اسرائیلی بمباری سے 38153 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں