اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے جمعرات کو حماس کی جانب سے سات اکتوبر کو کیے گئے حملے میں اسرائیل کی ناکامیوں کی سرکاری تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ تحقیقات میں مجھے اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو شامل کیا جانا چاہیے۔
گیلنٹ نے یہ تبصرہ نئے فوجی افسران کی گریجویشن کی تقریب میں کیا۔ اس تقریب میں متنازع حکومتی اتحاد کی سربراہی کرنے والے نیتن یاہو بھی شریک تھے۔ گیلنٹ نے کہا کہ سرکاری تحقیقات معروضی ہونی چاہئیں اور اس میں ہم سب، وہ لوگ جو فیصلے کرتے ہیں اور جو ان پر عمل درآمد کرتے ہیں یعنی حکومت، فوج اور سیکورٹی سروسز شامل ہونی چاہئیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ تحقیقات میں مجھے وزیر دفاع کی حیثیت سے شامل کرنا چاہیے۔ اس میں وزیر اعظم کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ ان کی اس بات پر سامنے موجود لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ نیتن یاہو نے سات اکتوبر کے حملے کی تحقیقات شروع کرنے کی گزشتہ مطالبات کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ جو کچھ ہوا اس کی تحقیقات جنگ کے خاتمے کے بعد کی جانی چاہیے۔
صرف حکومت ہی ایک سرکاری تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کر سکتی ہے جس کا دائرہ اختیار وسیع ہو اور جس کے نتائج اہم اور وزنی ہوں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کمیٹی کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔
گیلنٹ نے گزشتہ برس اسرائیل میں سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کے حکومتی منصوبوں کے خلاف احتجاج کرنے والے مہینوں کے مظاہروں کے بعد پہلے بھی نیتن یاہو سے اختلاف کیا تھا۔ گیلنٹ نے کہا تھا کہ حکومت کو اپنے مجوزہ بل کو ترک کر دینا چاہیے اور خبردار کیا تھا کہ عوامی بے چینی قومی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
گیلنٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جمعرات کو اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ وہ اسرائیلی جو سات اکتوبر کو ٹینک کی گولہ باری کا نشانہ بننے والے گھر میں نظر بند تھے۔ ان پر گولہ باری ممکنہ طور پر حماس کے عسکریت پسندوں نے کی تھی اور یہ اسرائیلی بمباری نہیں تھی۔ یہ نتائج اس دن کے حوالے سے فوج کی جانب سے کی گئی پہلی تحقیقات کے نتائج میں شامل تھے۔ فوج نے بظاہر خود کو ٹینک کے حملے سے بری کردیا اور اس نے شہریوں کی حفاظت میں ناکامیوں کی ایک حد کو تسلیم کیا ہے۔