" سعودی عرب میں ویکسین کی مقامی تیاری کے حوالے سے "بڑی پیش رفت" نظر آ رہی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

مشرق وسطیٰ کے لیے عالمی ادارہ صحت کی سربراہ ڈاکٹر حنان بلخی نے سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں 'ریجنل ریفرنس ویٹرنری لیبارٹری' کے قیام کے منصوبے کو سراہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ امراض کی تشخیص اور ویکسینوں کو مقامی طور پر تیار کرنے کے لیے اس لیب کے قیام کی سمت گامزن ہونا سعودی عرب کی ایک "بڑی جست" ہے۔ یہ لیب انسان اور جانور کی صحت کے علاوہ ماحولیاتی سلامتی کے لیے بھی نہایت مفید ثابت ہو گی۔

ڈاکٹر حنان کے مطابق خطے کو درپیش مختلف چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں جانوروں کے امراض کا بار بار پھیلنا، غذائی سلامتی سے متعلق مسائل اور مویشیوں کے پالنے سے جنم لینے والی بیماریوں کا پھیلاؤ شامل ہے۔

سعودی عرب میں ماحول، آب اور زراعت کی وزارت میں اسسٹنٹ انڈر سکریٹری ڈاکٹر علی الشیخی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ریاض میں 'ریجنل ریفرنس ویٹرنری لیبارٹری' کا کام آئندہ 3 برس میں مکمل ہو جائے گا اور یہ چوتھے برس کام شروع کر دے گی ۔ یہ لیب جانوروں کی بیماریوں کا پتہ چلا کر ان کے پھیلاؤ کی روک تھام کرے گی۔ اس کے لیے جدید ترین ٹکنالوجی استعمال کی جائے گی اور بیماری کے اسباب جاننے کے لیے جینیٹک ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔ نئی ویکسینوں کی تیاری کے لیے لیب میں باریک بینی کے ساتھ اطلاقی تحقیق کی جائے گی۔

سعودی عرب میں ماحول، آب اور زراعت کی وزارت نے 'ریجنل ریفرنس ویٹرنری لیبارٹری' کے قیام کے لیے ایک خصوصی مقامی کمپنی کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس منصوبے کی قیمت 17.5 کروڑ ریال ہے۔ اس لیب کا مقصد جانوروں کی بیماریوں کا پتہ چلانا اور ان کے پھیلاؤ کو قابو میں لانا ہے۔ اس پیش رفت کا شہریوں کی صحت پر مثبت اثر پڑے گا اور یہ انسان کی اوسط عمر کو 80 برس تک بڑھانے کے حوالے سے ویژن 2030 پروگرام کے ساتھ میل رکھتی ہے۔

ڈاکٹر علی الشیخی - انڈر سیکرٹری برائے ماحولیات، پانی اور زراعت برائے لائیو سٹاک اور فشریز

ڈاکٹر عبداللہ القیسی جازان یونیورسٹی میں وائرس اور ویکسین کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر اور وباؤں کے علم کے محقق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئی لیب صحت عامہ اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب کرے گی۔ انسان کو متاثر کرنے والی سرائیت کن وبائی اور نئی بیماریوں میں سے تقریبا 75% کا ذریعہ جانور ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر القیسی نے مزید کہا کہ جانوروں کی بیماریوں میں اضافے کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں اس نوعیت کی خصوصی لیبارٹریوں کی شدید ضرورت ہے کیوں کہ خطے میں اکثر ممالک میں یہ موجود نہیں ہیں۔ مملکت میں نئی لیبارٹری مقامی باصلاحیت افراد کی تربیت میں بڑا کردار ادا کرے گی جس سے قومی سطح پر صحت کی سلامتی اور جانوروں سے متعلق ثروت کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔

وباؤں اور امراض کے شعبے کے خصوصی محقق ڈاکٹر عمار الخمیسی کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی نے جرثومے اور فُطرات میں بڑی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے۔ یہ چیز اس وقت استعمال ہونے والی معروف دواؤں کے لیے مزاحمت کا باعث بن گئی ہے۔ لہذا یہ امر ضروری ہو گیا ہے کہ جرثومے اور فُطرات کی نئی اقسام کے مطالعے کے لیے ایک خصوصی لیبارٹری فراہم کی جائے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر الخمیسی نے واضح کیا کہ صحت کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے اس لیبارٹری کا بڑا کردار ہو گا۔ پرندے اور جانور بالخصوص گائیں وائرسوں کے اختلاط کی بڑی صورت ہے۔ یہ وائرس انسان کو منتقل ہو کر مختلف امراض اور نئی وبا کا سبب بنتے ہیں جو کووڈ 19 سے زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر الخمیسی نے زور دیا کہ عالمی لیبارٹریوں اور جامعات کے ساتھ مربوط ہونے کے لیے اس نئی لیبارٹری کا قیام بہت ضروری ہے۔ اس کے ذریعے معلومات اور تحقیقی مطالعوں کا تبادلہ ہو گا اور لیبارٹری میں کام کرنے والوں کی اہلیت میں اضافہ ہو گا۔

رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب نے National strategy for biotechnology متعارف کرائی تھی۔ اس کا مقصد قومی سطح پر صحت کی بہتری، معیار زندگی کی بلندی اور ماحولیاتی تحفظ کے علاوہ غذائی اور آبی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں