'غزہ میں جنگ بندی بہت قریب ہے' انٹونی بلنکن کا اظہار امید
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جب للکار للکار کر جنگ بندی سے انکار کر رہے ہیں اور غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کے پناہ گزین کیمپوں پر بد ترین بمباری کو حماس پر دباؤ کا حربہ بتا رہے ہیں اسی دوران امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بار پھر امید دلائی ہے کہ 'غزہ میں جنگ بندی بہت قریب ہے۔'
انہوں نے اس امید کا اظہار جمعہ کے روز کیا ہے۔ کہ اسرائیل اور حماس جس جنگ بندیی طویل عرصے سے کوششیں جاری ہیں وہ اب آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگی ہے۔ مذاکرات کا عمل اپنی 'گول لائن' کی طرف بڑھ رہا ہے۔
بلنکن ایسپین سیکیورٹی فورم سے 'کولوریڈو' میں خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا 'حماس اور اسرائیل صدر جو بائیڈن کے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ منصوبے پر اتفاق کر چکے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک طویل عرصے سے سفارتی سطح پر کوششیں جاری تھیں۔ تاہم کچھ مسائل ابھی حل کرنے کے ہیں۔ '
واضح رہے اس جنگ کو اسرائیلی فتح میں تبدیل کرنے کے لیے امریکہ نے ایک اسرائیلی اتحادی کے طور پر حد سے زیادہ اسرائیلی کی مدد کی ہے۔ سفارتی میدان اور جنگی مدد کے حوالے سے امریکہ اسرائیل کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا رہا ہے۔ حتیٰ کہ صدر جو بائیڈن اور ان کی جماعت کو اسی کی اپنے ملک میں بھاری سیاسی قیمت اور دنیا بھر میں اخلاقی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔
تاہم اب امریکہ حکومت نے جنگ بندی کو اپنا ہدف ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے اور جن صد جو بائیڈن کے زیر قیادت امریکہ نے تین بار جنگ بندی کی قرار دادوں کو سلامتی کونسل میں ویٹو کیا تھا اب سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر جنگ بندی کی بات کر رہا ہے۔
بلنکن نے امریکی حاضرین کو زیادہ امیدا دلانے کے لیے اور اپنی کوششوں کے بارے میں اطمینان دلانے کے لیے کہا'مجھے یقین ہے کہ ہم دس گز والی لائن کے اندر داخل ہو چکے ہیں اور گول لائن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب معاہدہ ہو گا جنگ بندی ہو گی اور یرغمالی اپنے گھروں کو جا سکیں گے۔ معاملات کو ایک پائیدار امن اور استحکام کے ٹریک پر ڈال دیا گیا ہے۔'
انہون نے مزید کہا 'تاہم کچھ ایشوز کا طے کیا جانا باقی ہے ، انہیں طے کرنے کے لیے مزاکرات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم درمیان میں ہیں اور ٹھیک وہی کام کر رہے ہیں، جس کی ضرورت ہے۔'
امریکی وزیر خارجہ نے یہ امیدیں ایسے وقت میں جگائی ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی کانگریس سے خطاب کے لیے امریکی پہنچنے والے ہیں۔ امریکہ نے انہیں اس خطاب کی دعوت چند ہفتے پہلے اس وقت دی تھی جب بین الاقوامی فوجداری عدالت سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہ نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر کے انہیں غزہ میں جنگی جرائم کی وجہ سے گرفتار کرلے گی۔
نیتن یاہو نے بدھ کے روز کانگریس سے خطاب کرنا ہے۔۔ جبکہ اسرائیلی کینیسٹ میں بدھ کے روز ہی ان کی حکومت نے ایک قرار داد پیش کی اور بعد ازاں منطور کی جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کو مکمل انکار کیا گیا ہے۔ نیز اس موقع پر یہ اظہار بھی کیا گیا کہ حماس کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی اور حماس پر دباؤ بڑھانے کے لیے بمباری اور حملے شدید تر رکھنے کی حکمت عملی بروئے کار رہے گی۔
جنگ بندی منصوبے کے ' تخلیق کار' بنا کر پیش کیے جانے والے امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ امریکہ میں جنگ بندی منصوبے پر بات چیت کا امکان بھی ابھی جو بائیڈن کو اچانک ہو چکی 'کووڈ کی وجہ سے دھندلا ہے۔'
انٹونی بلنکن سے نیتن یاہو کے دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا' امریکہ جنگ بندی معاہدے کو اختتامی مرحلے کی طرف چاہتا ہے۔ جنگ کے بعد کا بھی ایک منصوبہ ہے۔ امکان ہے کہ نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت اسی کے آس پاس ہو گی۔
خیال رہے نیتن یاہو کے امریکہ پہنچنے سے قبل جمعہ کے روز تک اسرائیلی فوج نے غزہ میں 38848 فلسطینیوں ہلاک کر دیا ہے۔ جس طرح جنگ کی شدت غزہ اور رفح میں اسرائیلی افواج دکھا رہی ہیں خدشہ کے نیتن یا ہو کے کانگریس سے خطاب تک یہ تعداد 39 ہزار کو چھو جائے گی۔ جبکہ بلنکن کو امید ہے کہ جنگ بندی قریب تر ہے۔