’خواہش تھی کہ پیرس اولمپکس میں شامل سعودی ٹیم مملکت کی ثقافت کی عکاس ہو‘

فرانس میں جاری بین الاقوامی ایونٹ ’پیرس اولمپکس‘ میں شرکت کرنے والے ٹیم کھلاڑیوں کے یونیفارم کی ڈیزائنر علیا السلمی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب کی فیشن ڈیزائنرعلیا السلمی نے نفیس اور جدید ڈیزائنز اور اپنے فنی وژن کی وجہ سے وسیع شہرت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ انہوں نے پیرس 2024ء اولمپکس کے افتتاحی شو میں سعودی وفد کے لیے اپنے ڈیزائن کے ساتھ سعودی ورثے کو مجسم کیا۔ان کے اچھوتے جدید انداز کے ڈیزائن عالمی سطح پر سراہا گیا اور وہ خوبصورتی اور ورثے کی علامت بن گئے۔

تاریخی شرکت

سعودی ڈیزائنر علیا نے سعودی مشن کے لیے اپنے ڈیزائنوں میں تاریخی شرکت پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شاندار ڈیزائن پیش کیے جو مملکت کے شاندار ورثے اور ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔

علیا السلمٰی نے "انسٹاگرام" پلیٹ فارم پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر پوسٹ میں کہا کہ میں اس اہم عالمی ایونٹ میں اپنے مقصد کو پیش کرنے کا موقع دینے پر حکومت کی شکر گذار ہوں۔ میں ہمیشہ کوشش کرتی ہوں کہ سعودی ورثے سے متاثر جدید ڈیزائن پیش کرکے اپنے فخر اور حب الوطنی کا اظہارکرسکوں۔ میرا مقصد وطن عزیزمیں اپنی شناخت اور اس کے تسلسل کو مضبوط بنانا اوراپنی ثقافت کو دُنیا تک پہنچانا ہے۔ 2024ء کے پیرس اولمپکس کی افتتاحی تقریب ہماری ثقافت اور ورثے کو اجاگر کرنے کےمشن کو تقویت دینے کے ساتھ جدید ترین بین الاقوامی ڈیزائنوں سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

ڈرائنگ اور کندہ کاری

پیرس 2024ء اولمپکس کے افتتاحی شو میں سعودی وفد کے ملبوسات کو روایتی ڈرائنگ اور نقش و نگار سے سجایا گیا تھا جو مملکت کی قدیم تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ منفرد تخلیقی صلاحیت علیا السلمیٰ کی جانب سے سعودی اولمپک وفد کے ملبوسات کی تیاری کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد سامنے آئی۔ انہوں نے 128 مرد اور خواتین ڈیزائنرز میں سے ان کے منفرد وژن ، جدید اور اختراعی عناصر کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت کی بدولت منتخب کیا گیا۔ ان کا ملبوسات کی ڈیزائننگ کا انداز بین الاقوامی منظر نامے پر مملکت کی موجودگی کو تقویت دینے کے ساتھ اس کی بھرپور ثقافتی خوبصورتی کے اظہار کا ذریعہ ہے۔

روایتی سعودی لباس

افتتاحی شو کے دوران سعودی وفد کے ارکان روایتی سعودی یونیفارم میں دکھائی دیے۔اس میں کھلاڑیوں کے لیے بشت ، شماغ اور عبایہ شامل تھے، جنہیں خوبصورت نقش ونگار کے ساتھ تیار کیا گیا تھا۔یہ ملبوسات مملکت کے شاندار ورثے اور ثقافتی شناخت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سعودی ڈیزائنر علیا السلمی نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے اپنے دلکش ڈیزائنز کو پوسٹ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’خواہش تھی کہ پیرس اولمپکس میں شامل سعودی ٹیم مملکت کی ثقافت کی عکاس ہو‘۔

مردانہ یونیفارم

جہاں تک مردوں کے یونیفارم کا تعلق ہےسعودی ڈیزائنر نے ثوب اور بشت کو یکجا کرنے کا انتخاب کیا۔ اس نے کہاکہ مردوں کا یونیفارم سعودی مردوں کے لیے عام ہے۔ جو کہ ثوب اور بشت ہے۔ سفید رنگ کا انتخاب پروٹوکول کے مطابق کیا گیا تھا۔ سعودی عرب میں بشت پہننے کو پروٹوکول کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کام سے مجھے بہت خوشی ہوئی جس پر مجھے ہمیشہ فخر ہے۔

ثوب اور بشت سعودی عرب میں مردوں کے مشہور روایتی ملبوسات میں سے ایک پرلگژری لباس ہے جو سرکاری مواقع اور چھٹیوں پر پہنا جاتا ہے۔ اسے سونے یا چاندی کی کڑھائی سے پہچانا جاتا ہے۔ کناروں کو سونے اور چاندی کی کڑہائی سے سجایا جاتا ہے اسے امارت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ لباس اور بشت ایک ساتھ قدیم سعودی ورثے اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں