اسرائیلی دروز کمیونٹی کی عورتیں اور مرد سیاہ لباس پہن کر 12 ہلاک شدہ اسرائیلیوں کی تدفین کے لیے پہنچ گئے ہیں۔ واضح رہے ہفتے کے روز مجدل شمس میں حزب اللہ کی طرف سے فٹ بال گراؤنڈ پر کیے گئے اب تک ہلاکتوں کے اعتبار سے بد ترین میزائل حملے میں 12 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ جن کی آخری رسومات اتوار کے روز کی جا رہی ہیں۔
بتایا گیا ہے کی دروز کمیٹی کےساتھ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی فون پر تعزیت کی ہے اور دھمکی دی ہے کہ ان ہلاکتوں کے حزب اللہ کو قیمت چکانا پڑے گی۔
سات اکتوبر کے بعد سے کسی بھی ایک واقعے میں حزب اللہ یا حماس کے علاوہ گروپ کی طرف سے ایک واقعے میں یہ اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اب تک 39175 فلسطینیوں کو ہلاک اور 90 ہزار سے زیادہ لوگوں کو زخمی کر دیا ہے۔ غزہ اور رفح میں اس سے کئی گنا زیادہ ہلاکتیں روز مرہ کا معمول ہیں۔ جن میں زیادہ تر فلسطینی عورتیں یا بچے ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ درجن سے زیادہ بچے غزہ میں بھوک سے مر چکے ہیں۔
تاہم دروز کمیونٹی لبنانی سرحد کے قریب کمیونٹی کو برادشت کرنے کے لیے اس بڑے صدمے کے حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ ہم اب لبنان اور لبنانی حزب اللہ کے خلاف مکمل جنگ کے قریب تر ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اس میزائل حملے کے حوالے سے کہا ہے اس نے 50 کلو گرام وزنی ایرانی ساختہ میزائل کو راستے میں روک لیا ہے۔ یہ جنگی وار ہیڈ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف فائر کیا تھا۔ تاہم حزب اللہ نے اس حملے سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور کہا ہے میزائل حملہ اس نے نہیں کیا ہے۔
اتوار کی صبح دروز کمیونٹی کی متعدد خواتین نے ماتمی سیاہ لباس زیب تن کر کے اسرائیلی دروز کمیونٹی کے ہلاک شدہ افراد کے تابوتوں کے پاس جمع ہو گئیں۔ انہوں نے تابوتوں پر پھول نچھاور کیے۔ دروز مردوں نے بھی روائتی لباس پہن رکھا تھا۔ 42 سالہ نرس نے کہا ہمارے لیے ہر رات ہر دن اور ہر منٹ دکھ اور کرب کا ہے۔