سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے حال ہی میں کابینہ سے منظور ہونے والے کرپشن کی روک تھام کے نئے ضابطہ اخلاق کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اور نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس نئے نظام میں سعودی عرب میں سرکاری ملازمین کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر تحقیقات کا سامنا کرنا ہو گا۔
انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملازم کی آمدن اور تنخواہ کے برعکس اس کی دولت اور اثاثوں میں اچانک اضافہ ہو یا اس کے قریبی عزیزوں کی دولت میں اضافہ ہونا شروع ہو تو اسے اس کا ثبوت دینا ہوگا کہ اس کے پاس یہ پیسےکہاں سے آئے؟ آیا اس نے یہ رقم جائز ذریعے سےحاصل کی ہے یا کالا دھن کسی اور ذریعے سے حاصل کیا ہے۔
ام القراء اخبار کے مطابق انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس کے لیے کوئی جائز ذریعہ ثابت نہ کر سکے تو اس کیس کو مالی تحقیقات کرنے والی مجاز عدالت کے سامنے فوجداری کیس کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ اگر ملزم اچانک دولت کے بارے میں درست معلومات نہ دے سکے اور اس رقم کے حصول کے جائز ذریعے کا ثبوت پیش نہ کرے تو اسے سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔
-
چین کے ساتھ معاہدات کے بعد سعودی برآمدات میں اضافہ
تیل کی برآمد میں نمایاں حیثیت رکھنے والے سعودی عرب نے تیل کے علاوہ برآمدات میں بھی ...
مشرق وسطی -
بنجر صحرا سے تیل کی پیداوار کا عالمی مرکز بننے والا سعودی شہر ”بقیق“
85 سال قبل مشرقی سعودی عرب میں آتش فشاں ریگستان کے وسط میں واقع شہر ”بقیق“ ایک ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب: رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں تفریحی تقریبات میں 16 ملین افراد کی شرکت
سعودی عرب کی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی (جی ای اے) نے اعلان کیا کہ اس سال کی دوسری سہ ...
مشرق وسطی