سعودی عرب: سرکاری ملازمین کو اپنے اور قریبی عزیزوں کے اثاثوں کا ثبوت دینا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے حال ہی میں کابینہ سے منظور ہونے والے کرپشن کی روک تھام کے نئے ضابطہ اخلاق کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اور نکتے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس نئے نظام میں سعودی عرب میں سرکاری ملازمین کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر تحقیقات کا سامنا کرنا ہو گا۔

انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملازم کی آمدن اور تنخواہ کے برعکس اس کی دولت اور اثاثوں میں اچانک اضافہ ہو یا اس کے قریبی عزیزوں کی دولت میں اضافہ ہونا شروع ہو تو اسے اس کا ثبوت دینا ہوگا کہ اس کے پاس یہ پیسےکہاں سے آئے؟ آیا اس نے یہ رقم جائز ذریعے سےحاصل کی ہے یا کالا دھن کسی اور ذریعے سے حاصل کیا ہے۔

ام القراء اخبار کے مطابق انسداد بدعنوانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس کے لیے کوئی جائز ذریعہ ثابت نہ کر سکے تو اس کیس کو مالی تحقیقات کرنے والی مجاز عدالت کے سامنے فوجداری کیس کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ اگر ملزم اچانک دولت کے بارے میں درست معلومات نہ دے سکے اور اس رقم کے حصول کے جائز ذریعے کا ثبوت پیش نہ کرے تو اسے سزا کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں