ایران کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کے ان مطالبات پر تبصرہ کیا ہے جس پر ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیل پر حملہ نہ کرے اور تحمل کا مظاہرہ کرے۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ سیاسی منطق سے عاری اور بین الاقوامی قانون سے متصادم مطالبہ ہے۔
تین یورپی ملکوں نے پیر کے روز یہ بیان جاری کیا تھا جس میں ایران اور اس کے اتحادیوں سے کہا کہ وہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کے بعد اسرائیل پر جوابی حملے سے باز رہے۔ اسماعیل ھنیہ کو تہران میں پچھلے مہینے کے اواخر میں قتل کیا گیا تھا۔ جب وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے۔
تہران اور اس کے اتحادی حزب اللہ سمجھتے ہیں کہ یہ قتل اسرائیل نے کیا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ابھی تک باضابطہ طور پر اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اگرچہ یہ واضح ہے کہ اسرائیل اپنے اڑوس پڑوس کے ملکوں میں جب چاہے حملے کر سکتا ہے اور جس رہنما کو چاہے نشانہ بنا لیتا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ایران کی خودمختاری پر اس حملے پر کوئی اعتراض کیے بغیر تینوں یورپی ملکوں نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صیہونی رجیم کے اس حملے کا جواب نہ دے۔
کنعانی نے کہا 'ایران اسرائیل سے اپنا دفاع کرنے کے لیے پکا ہے۔ پیرس، برلن اور لندن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس جنگ کے خلاف بھی اکٹھے ہو کر کھڑے ہوجائیں جو غزہ میں جاری ہے اور جنگ چاہنے والا اسرائیل کر رہا ہے۔'