مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کا مسلسل آپریشن جاری، مزید چھ فلسطینی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی میڈیا اور فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ نے شمالی مقبوضہ مغربی کنارے اور یروشلم کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے منگل کی رات اور بدھ کی صبح چھ فلسطینیوں کی ہلاکت کا اعلان کیا ہے۔

وفا نے رپورٹ کیا کہ تین نوجوان آج بدھ کے روز اسرائیلی ڈرون کی بمباری میں طوباس کے جنوب مشرق میں واقع قصبے طمون میں ارے گئے۔

ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ تینوں نوجوانوں کی لاشیں اسرائیلی فورسز نے "قبضے میں" لی تھیں۔

خبر رساں ایجنسی نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ نوجوان فائزابو عامر کو شمالی مغربی کنارے کے علاقے طوباس میں اس کے گھر کے اندر محاصرہ کرنے کے بعد گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

14 اگست 2024 کو اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے توباس میں فلسطینی اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والے مکان کا معائنہ کر رہے ہیں۔
14 اگست 2024 کو اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے توباس میں فلسطینی اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والے مکان کا معائنہ کر رہے ہیں۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کی افواج نے وادی اردن کے علاقے طوباس اور طمون کے دیہات میں "آپریشن شروع کیا"۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے اپنے اکاؤنٹ میں مزید کہا کہ طمون قصبے میں اس نے متعدد عسکریت پسندوں پر فضائی حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن جاری ہے۔

اسرائیلی پولیس نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب یہ بھی اعلان کیا کہ ایک 16 سالہ لڑکا یروشلم کے قریب اس وقت مارا گیا جب وہ حفاظتی دیوار کی چوٹی پر چڑھ گیا اورفوجیوں پر مولوٹوف کاک ٹیل پھینکا۔

مغربی کنارے کے علاقے جس پر 1967 سے اسرائیل کا قبضہ ہے ایک سال سے زائد عرصے سے تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، لیکن سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے صورتحال ابتر ہوگئی ہے۔

سات اکتوبر سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے ہاتھوں کم از کم 624 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں