یہودی آباد کاروں کا فلسطینیوں پر حملہ ، پہلی بار اسرائیلی صدر کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انتہائی نادر موقع ہے کہ اسرائیلی صدر اضحاک ہرزوگ نےکسی فلسطینی کے ہلاک کیے جانے یا یہودی آباد کاروں کے حملے مذمت کی ہے۔ اسرائیلی صدر کا یہ مذمتی بیان جمعرات کے روز اچانک سامنے آیا ہے۔ جس میں انہوں نے ایک 'پوگروم 'کی مذمت کی ہے۔ اس یہودی حملے میں ایک فلسطینی ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوا ہے۔

فلسطی اتھارٹی کے مطابق 23 سالہ عبدالقادر صدا اس واقعے میں جاں بحق ہوا ہے جبکہ ایک اور فلسطینی سینے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہو ہے۔ یہودی آباد کاروں نے یہ حملہ مغربی کنارے کے شہر نابلس میں جت نامی گاؤں میں کیا ہے۔

فلسطینی حکام نے خبر رساں ادارے ' وفا ' کو بتایا ہے کہ ' مسلح آباد کاروں گاؤں پر حملہ کیا اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ درجنوں یہودی جن میں سے کچھ نے ماسک پہنے ہوئے تھے گاؤں کی طرف چڑھ دوڑے ، انہوں نے گاڑیوں اور تعمیراتی ڈھانچوں کو آگ لگائی، جبکہ پٹرول بموں اور پتھروں کا بھی استعمال کیا۔

اسرائیلی فوج جو عام طور پر حملہ کرنے کے مبینہ جرم میں فلسطینیوں کو ' نیوٹرلائز ڈ' کر دیتی ہے۔ یعنی موقع پر گولی مار کر ہلاک کر دیتی ہے۔، اس نے اس جگہ سے جہاں ایک فلسطینی ہلاک ہوا ، ایک شدید زخمی ہوا ، کئی گاڑیوں اور تعمیراتی ڈھانچے جلا کر خاکستر کر دیے ہیں ، ایک یہودی کو سوال و جواب کے لیے روکا ۔ نیز فلسطینی کی ہلاکت کی بھی تصدیق سے انکار کر دیا ہے۔

البتہ اسرائیلی صدر نے 'ایکس ' پر لکھا ' میں اس واقعے کی مذمت کرتا ہوں ۔ جو سامریہ میں جمعرات کی شام پیش آیا ہے۔

اسرائیلی صدر کے بقول ' یہودیوں میں یہ ایک انتہائی چھوٹی سی اقلیت ہے جو قانون کے پسند کرنے والے آباد کاروں کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔' دوسری جانب نیتن یاہو نے بھی مذمتی بیان میں کہا ہے اس مجرمانہ اقدام کا ذمہ دار جو بھی ہے، انہیں قانون کے سامنے لایا جائے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں