سعودی عرب میں زنانہ افرادی قوت میں اضافے سے معیشت پر مثبت اثرات

زنانہ افرادی قوت کا 30 فیصد ہدف وقت سے بہت پہلے حاصل ہو چکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

سعودی عرب کی افرادی قوت خواتین کی شمولیت میں اضافے کے تجربے سے گذر رہی ہے جو بہتر تعلیمی مواقع، گرتی ہوئی شرح پیدائش اور زیادہ جامع ثقافتی ماحول کی بدولت ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ان پیش رفتوں نے مملکت کو اس کے وژن 2030 کے اہداف سے آگے بڑھا دیا ہے۔

حکومت اور نجی شعبے دونوں نے خواتین کو بااختیار بنانے اور کام کے زیادہ جامع ماحول کو فروغ دینے کے لیے قانونی اصلاحات اور تنوع کے اقدام سمیت فعال اقدامات نافذ کیے ہیں۔

صنفی مساوات کو فروغ دینے اور افرادی قوت میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے یہ بات سعودی عرب کے تزویراتی اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب خلیج تعاون کونسل افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں بے مثال رفتار کا تجربہ کر رہی ہے۔

عالمی بینک کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب میں افرادی قوت میں مردوں کی 79.9 فیصد شرح کے مقابلے میں خواتین کی شرکت کی شرح 34.5 فیصد ہے۔

شرقِ اوسط میں بین اینڈ کمپنی کے ایک شراکت دار این لاور ملاوزات نے عرب نیوز کو بتایا کہ اعداد و شمار 30 فیصد کے اصل ہدف سے آگے نکل گئے ہیں جس سے مملکت 2030 تک 40 فیصد کا نیا ہدف مقرر کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔

انہوں نے مملکت میں خواتین کے روزگار کو فروغ دینے کے لیے کئی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

ملاوزات نے کہا، "حکومتی جانب سے بعض مثالوں میں سعودی عرب کا ویژن 2030 شامل ہے - اس نظریئے کو حقیقت بنانے کے 11 پروگراموں میں سے دو خواتین کو بااختیار بنانے پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں: انسانی صلاحیتوں کی ترقی کا پروگرام اور معیارِ زندگی کا پروگرام اور دیگر نو پروگراموں کی کامیابی ممکن بنانے کے لیے افرادی قوت میں خواتین کی شرکت نہایت اہم ہے۔"

ریڈ سی گلوبل کی ترجمان زینب حمیدالدین الحنوف الحزانی نے کہا کہ مملکت نے افرادی قوت میں خواتین کی 30 فیصد شرکت کا ہدف مقررہ وقت سے پہلے ہی عبور کر لیا۔

انہوں نے مزید کہا، "ریڈ سی گلوبل میں ہم افرادی قوت میں صنفی تنوع کو فروغ دینے کی اہمیت تسلیم کرتے ہیں اور ہم نے خواتین کے افرادی قوت میں داخل ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہم کوششیں کی ہیں۔"

الحزانی نے کہا کہ تنظیم میں ہر سطح پر بشمول سینئر ایگزیکٹو کے کرداروں میں خواتین کو رکھنے پر ہمیں فخر ہے۔

"ریڈ سی گلوبل میں ماسٹر پلاننگ اور تعمیرات سے لے کر سائنسی تحقیق تک تمام شعبوں میں خواتین نمایاں طور پر اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ بعض شعبوں میں خواتین کی نمائندگی 44 فیصد تک پہنچ جاتی ہے جو کمپنی کی اوسط سے زیادہ ہے۔"

اولیور وائمن میں امپلی مینٹیشن پریکٹس کی ڈائریکٹر لیلیٰ کزنزوف نے ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگ کے تخمینے کا حوالہ دیا کہ اگر زنانہ افرادی قوت کی شمولیت کی موجودہ شرح جاری رہی تو سعودی عرب کی معیشت کو 2032 تک 39 بلین ڈالر یا 3.5 فیصد کا اضافہ حاصل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مملکت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کئی اقدامات نافذ کیے ہیں جن میں زنانہ افرادی قوت کی شرکت کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنا، امتیازی سلوک پر سزا دینا، ملازمتوں کے لیے درست انتخاب کو بہتر بنانا اور خاص طور پر خواتین کے لیے تربیت اور معاونت کے پروگرام پیش کرنا شامل ہیں۔

کزنزوف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح سعودی عرب کام کے مزید متنوع اور جامع ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس کی افرادی قوت کی پوری صلاحیت کو بروئے کار لانا اس کے بلند پایہ اہداف تک پہنچنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا، "خواتین تیزی سے ہر سطح پر افرادی قوت میں داخل ہو رہی ہیں بشمول اعلیٰ ہنر مند اور روایتی طور پر مردوں کے زیر اثر شعبے مثلاً انجینئرنگ اور مالیات۔"

"حکومت خاندانی زندگی کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتی ہے اور اس نے خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی میں معاونت کے لیے اقدامات نافذ کیے ہیں۔ اس میں کام کے لچکدار انتظامات کو فروغ دینے اور بچوں کی نگہداشت کے وسیع اختیارات فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

کزنزوف نے مزید کہا کہ قانونی اصلاحات کے علاوہ حکومت نے معاشرتی رویئے تبدیل کرنے کے لیے بیداری کی مہمات کی قیادت کی ہے۔

یہ اقدامات ممتاز سعودی خواتین کے کارناموں کو نمایاں کرتے ہیں، انہیں رول ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں اضافے کے فوائد کے بارے میں بات چیت کو فروغ دیتے ہیں۔

کزنزوف نے کہا، "اس جامع نقطہ نظر کے ساتھ سعودی عرب ایک ایسے مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے جہاں خواتین فعال طور پر حصہ لے سکتی ہیں اور معیشت کے تمام شعبوں میں ترقی کر سکتی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ تکنیکی کاروباری افراد کے لیے بدیر پروگرام جیسی تنظیمیں سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں سعودی کاروباری خواتین کے لیے ضروری تربیت اور رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

یہ پروگرام خواتین کو اپنا کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کی غرض سے بنائے گئے ہیں۔ اس طرح ان صنعتوں کے اندر کاروبار کی ثقافت کو فروغ ملتا ہے۔

کزنزوف نے کہا، "تاہم یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ سعودی خواتین افرادی قوت میں داخل ہونے کے لیے بخوبی تیار ہوں۔ اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر سامنے لانے کے لیے خاص طور پر نجی شعبے کے اندر ملازمت کی تخلیق پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "14 فیصد مردوں کے مقابلے میں 20 فیصد خواتین ان عہدوں کے لیے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں جن پر وہ فائز ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور حوصلہ افزا افرادی قوت کی دستیابی زیادہ اعلیٰ معیار کے اور پیداواری روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ایک مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔"

کزنزوف نے خواتین کو بااختیار بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ وہ قیادت اور انتظامی کردار ادا کر سکیں جن کے بارے میں توقع ہے کہ وہ سیاحت اور مہمان نوازی جیسے اعلیٰ ترقی کے شعبوں میں زیادہ مروج ہوں گے۔

انہوں نے کہا، "ان پیش رفتوں کو سہولت فراہم کر کے ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ خواتین کی مہارتوں اور ہنر کو مکمل طور پر استعمال کیا جائے جو مملکت کی اقتصادی تنوع اور مجموعی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں۔"

آر ایس جی کے نقطہ نظر سے مقصد یہ دیکھنا ہے کہ سعودی خواتین قائدانہ کردار ادا کریں اور زیادہ جامع معاشرہ چلائیں خاص طور پر سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبوں میں۔

الحزانی نے کہا، "ہم ان شعبوں میں خواتین کے لیے مواقع کو فروغ دینے کے لیے وقف ہیں۔ اس وژن کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے مختلف پروگرام اور اقدامات نافذ کیے ہیں جن کا مقصد اپنی تنظیم میں خواتین کی صلاحیتوں کو راغب کرنا، برقرار رکھنا اور فروغ دینا ہے۔"

ترجمان نے مزید کہا کہ آر ایس جی ملازمت کے لیے صنفی طور پر غیر جانبدار اشتہارات کا استعمال کرتے ہوئے اور متنوع امیدواروں کی شمولیت کو یقینی بنا کر اپنے بھرتی کے عمل میں انصاف پسندی کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی نے سیاحت کے شعبے میں سعودیوں کے لیے تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے ریڈ سی ووکیشنل ٹریننگ پروگرام اور ریڈ سی پائینیئرز ووکیشنل ٹریننگ پروگرام سمیت کئی پروگرام شروع کیے ہیں۔

مزید برآں سوئٹزرلینڈ میں یونیورسٹی آف پرنس موگرین اور ایکول ہوٹلری ڈی لوزان کے ساتھ ہماری شراکت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ نوجوان سعودی مہمان نوازی میں عالمی معیار کی تعلیم حاصل کریں۔ اگرچہ یہ سکیمیں مردوں اور عورتوں کے لیے ہیں لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ نوجوان سعودی خواتین کو اس سے بہت زیادہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ روایتی طور پر سیاحت ایک ایسا شعبہ ہے جس میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔

الحزانی نے کہا کہ آر ایس جی تسلیم کرتا ہے کہ افرادی قوت میں خواتین کی تعداد میں اضافہ صرف اس کوشش کا حصہ ہے۔ تربیت، رہنمائی اور قیادت کے پروگراموں سمیت کمپنی مختلف طریقوں سے خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہمارا خواتین کی قیادت کا پروگرام ہماری تنظیم کے اندر قیادت کے عہدوں پر خواتین کی موجودگی کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام انہیں ان مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے جو طویل مدت کے لیے عالمی سطح پر روایتی طور پر مرد کے زیرِ غلبہ کرداروں میں ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے ضروری ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں