گذشتہ ماہ 30 جولائی کو لبنان کے دار الحکومت بیروت کے جنوبی نواحی علاقے 'ضاحیہ' میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے کے کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس کارروائی میں حزب اللہ کا سینئر رہنما فؤاد شكر ہلاک ہو گیا تھا۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ہلاکت کی اس کارروائی میں حزب اللہ کے اندرونی نیٹ ورک میں در اندازی کے علاوہ ایک ٹیلی فون کال بھی شامل رہی جس نے فؤاد کو مذکورہ عمارت کی ساتویں منزل پر پہنچا دیا۔ وہ اسی عمارت میں رہتا اور کام کرتا تھا۔
امریکی اخبار نے فؤاد شکر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے "ایک بھوت کو قتل کر دیا"۔ مزید یہ کہ مقتول حزب اللہ کی تاریخ میں ایک شخصیت تھا تاہم اس نے ایسی زندگی گزاری کہ تقریبا نظروں سے اوجھل رہا۔ فؤاد کا چہرہ اس حد تک نا معلوم تھا کہ اس کے مرنے کے بعد لبنانی میڈیا نے فؤاد کی جعلی تصاویر نشر کر دیں۔
اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فؤاد نے اپنی زندگی کا آخری دن ضاحیہ میں واقع عمارت کی دوسری منزل پر اپنے دفتر میں گزارا۔ وہ اسی عمارت کی ساتویں منزل پر سکونت پذیر تھا تا کہ بہت زیادہ نقل و حرکت سے گریز کیا جا سکے۔ اسرائیلی فضائی حملے میں اس عمارت کو بم باری کا نشانہ بنایا گیا۔
فؤاد شکر لبنانی دار الحکومت بیروت میں امریکی میرینز کی بیرک میں دھماکے کے بعد چالیس برس تک امریکا سے چھپا رہا۔ امریکا کے مطابق فؤاد نے اس کارروائی کی منصوبہ بندی میں معاونت کی تھی۔ دھماکے میں 241 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔
امریکی اخبار کے مطابق فؤاد لبنانی تنظیم حزب اللہ کے بانیوں میں سے تھا۔ وہ طویل عرسے سے تنظیم کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کا قابل اعتماد دوست تھا۔ گذشتہ دس ماہ سے فؤاد اسرائیل کے ساتھ سرحد پار بڑھتی ہوئی شدید جھڑپوں کی قیادت کر رہا تھا۔
رپورٹ کے مطابق حسن نصر اللہ نے بتایا کہ فؤاد شکر نے ہلاکت سے محض چند گھنٹے پہلے حزب اللہ کے بانی سے بات چیت کی تھی۔ حزب اللہ کے ذرائع نے امریکی اخبار کو بتایا کہ فؤاد کو ایک شخص کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں اس نے کہا کہ وہ اس عمارت میں آئے گا جہاں فؤاد رہتا ہے۔ اس کے بعد 30 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے اسرائیل نے اس جگہ پر بم باری کر دی۔ حملے میں فؤاد شکر ، اس کی بیوی ، دو خواتین اور دو بچے ہلاک ہو گئے۔
اخبار نے حزب اللہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ فؤاد شکر سے ساتویں منزل پر جانے کی درخواست کی گئی تا کہ اسرائیل اسے آسانی سے بم باری کا نشانہ بنا سکے۔ یہ درخواست شاید اس شخص کی جانب سے کی گئی جس نے شاید حزب اللہ کے داخلی رابطہ نیٹ ورک میں در اندازی کی۔
اخبار نے ان ہی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حزب اللہ اور ایران واقعے کے حوالے سے انٹیلی جنس ناکامی کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان دونوں کا خیال ہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے دفاعی نظام پر قابو پانے کے لیے زیادہ جدید ہیکنگ ٹکنالوجی اور آلات کا استعمال کیا۔
حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے ایک رہنما کو نشانہ بنایا ہے جو شام میں مقبوضہ گولان میں واقع علاقے مجدل شمس پر حملے کا ذمے دار تھا۔
فؤاد شکر کا نام امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ واشنگٹن نے فؤاد شکر عُرف 'الحاج محسن' کے بارے میں معلومات دینے پر 50 لاکھ ڈالر کی انعامی رقم رکھی تھی۔
فؤاد شکر عسکری امور کے لیے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کا سینئر مشیر تھا۔
امریکا کے مطابق فؤاد نے شام میں اپوزیشن فورسز کے خلاف فوجی آپریشن میں صدر بشار کی فورسز اور حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد کی تھی۔
واشنگٹن کے مطابق فؤاد حزب اللہ کے مقتول سینئر کمانڈر عماد مغنیہ کا قریبی دوست تھا۔ اس نے 23 اکتوبر 1983 کو بیروت میں امریکی میرین کے بیرکوں کو دھماکے سے اڑانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کارروائی میں امریکی فوج کے 241 اہل کار ہلاک اور 128 زخمی ہو گئے تھے۔
ستمبر 2019 میں امریکی وزارت خارجہ نے فؤاد کو سرکاری طور پر عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اس سے قبل جولائی 2015 میں امریکی وزارت خزانہ نے بھی مماثل اقدام کیا تھا۔