اسرائیل کے مرکزی بنک کے سربراہ نے اسرائیلی حکومت کو ایک باضابطہ خط لکھ کر اس جانب متوجہ کیا ہے کہ جس طرح ملکی معیشت کے خرابی کی طرف لڑھکنے کے باعث حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ بجٹ لانے میں تاخیر نہیں کرے گی۔ اس لیے وعدہ پورا کرے اور بجٹ میں دیر نہ کرے۔
جنگ کی وجہ سے معیشت کو لگنے والے دھچکے کے سبب اسرائیل حکومت ایسا بجٹ لانے سے گریزاں ہے جس سے اس کی عوامی و سیاسی مقبولیت مزید خطرے میں پڑ جائے۔ اس لیے نیتن یاہو کی قیادت میں انتہا پسند مخلوط حکومت کی کوشش ہے کہ بجٹ لانے سے پہلے الیکشن کرانے کی آپشن کی طرف جائے تاکہ عوام سے ووٹ لینے کے بعد عوام کے خلاف مشکل معاشی فیصلے کرے۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو حکومت کم از کم ماہ مارچ تک بجٹ ملتوی رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو حکومت خود بخود ہی ختم ہو جائے گی اور نئی حکومت کے لیے فوری انتخاب لازمی ہوں گے۔ حکومت اس صورت حال کو اپنے سایسی فائدے میں دیکھتی ہے۔ تاہم مرکزی بنک چاہتا ہے کہ نیتن یاہو حکومت معاشی اہمیت کے فیصلوں کو اپنی سیاسی مصلحتوں کی نذر نہ ہونے دے ، جیسا کہ اکثر دو نمبر حکمران اپنے فائدے کو دیکھتے رہتے ہیں ۔
اسی تناظر میں مرکزی بنک کے سربراہ نے اسرائیلی حکومت کو منگل کے روز خط لکھا ہے۔ بنک سربراہ یارون نے خط میں توجہ دلائی ہے کہ '10 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران بھی 2024 کے بجٹ فریم ورک کو 2025 کے بجٹ میں بھی جاری رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ یہ اسرائیل معیشت اور دنیا میں اسرائیل کی معاشی ساکھ کے لیے اہم ہے۔'
خط میں یہ بھی یا دلایا گیا ہے کہ ایک قبل وزیر خزانہ سموٹریچ اور وزارت کے اعلیٰ حکام بنک حکام کے ساتھ اسی تناظر میں ایک ابتدائی نوعیت کی ملاقات کی تھی۔ اسی میٹنگ کے دوران طے کیا گیا تھا کہ اس سلسلے میں ایک اور ملاقات جلد ہو گی تاکہ بجٹ کی نئی ایڈجسٹمنٹس پر تبادلہ خیال کیا جائے۔ لیکن دوبارہ میٹنگ ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔'
ادھر نیتن یاہو کے دفتر نے حکومتی بجٹ کے مقابلے انتخابی ایجنڈے کو ترجیح میں رکھنے اور مرکزی بنک سے میٹنگ سے گریز کے اس خط میں اظہار کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
خیال رہے پچھلے ہفتے ہی بین الاقوامی ریٹنگ ادارے موڈیزنے حالیہ مہینوں کی منفی معاشی پیش رفت اور رجحانات کے پیش نظر اسرائیلی کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی ہے۔ موڈیز نے اس سلسلے میں غزہ میں طول پکڑ گئی جنگ کا بھی ذکر کیا۔ تاہم ابھی مزید کمی کا بھی امکان رد نہیں کیا گیا ہے۔
مرکزی بنک کے سربراہ یارون نے کہا ہے' اگرچہ کمی جزوی طور پر اسرائیلی سلامتی کے مسائل کی وجہ سے ہوئی ہے تاہم ضروری ہے کہ اس تناظر میں مستقبل کی معاشی پالیسی کا جائزہ لے کر اہم فیصلے کیے جائیں۔'
ماضی میں اسرائیلی جی ڈی پی آٹھ اعشاریہ ایک ہو گیا تھا مگر جنگی صورت حال کے سبب تقریبا ً دو فیصد کمی کا اظہار کر رہا ہے کہ رواں سال کے آخر تک یہ نیچے رہے گا۔ اسرائیل نے جنگ سے پہلے خسارے کا اندازہ دو اعشاریہ پچیس فیصد لگایا تھا ، مگر جنگ پر اخراجات اسرائیلی ماہرین کے اندازے سے بہت بڑھ کر22 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔ جس کے نتیجے میں بجٹ کا سارا فریم ورک متاثر ہو رہا ہے۔