ہمارے مندوبین قاہرہ جا رہے ہیں لیکن غزہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے: حماس عہدیدار
فلاڈیلفی راہداری پر فوجی رکھنے پر اسرائیل کا اصرار مذاکرات میں پیش رفت میں حائل ہے
حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ان کا گروپ ہفتے کے روز ایک وفد قاہرہ بھیج رہا ہے لیکن وہ مصری دارالحکومت میں غزہ جنگ بندی مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔
مصر، قطر اور امریکہ کئی مہینوں سے غزہ کی پٹی میں 10 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حماس کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ وفد مصری انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کرے گا جو اسے غزہ جنگ بندی مذاکرات کے موجودہ دور میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وفد مذاکرات میں حصہ لے گا۔ عہدیدار اس معاملے پر عوامی طور پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔
انہوں نے مزید کہا، "حماس نے شروع سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے اس دور میں شرکت نہیں کرے گی جو گذشتہ ہفتے دوحہ میں شروع ہوا تھا۔"
حماس کی جانب سے قاہرہ میں وفد بھیجنے کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ نے کہا کہ مذاکرات کے تازہ ترین دور میں پیش رفت ہوئی تھی۔
مہینوں سے جاری جنگ بندی مذاکرات کے دوران گذشتہ امیدیں بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں اور اس بار مصری سرحد پر فوجیں رکھنے پر اسرائیل کا اصرار ایک اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔
حماس کے عہدیدار نے کہا کہ اسلامی گروپ کا اصرار ہے کہ اسرائیل غزہ کے پار بشمول "مصر کے ساتھ سرحدی علاقے سے اپنی افواج ہٹائے۔" اس علاقے کو فلاڈیلفی راہداری کہا جاتا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مصر اور غزہ کے درمیان راہداری کے ساتھ فوجیوں کی موجودگی پر اصرار کیا ہے۔
جمعہ کو وائٹ ہاؤس نے کہا کہ قاہرہ میں ہونے والی بات چیت میں حصہ لینے والے امریکی حکام میں سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز بھی تھے جو اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی اور سکیورٹی سروس کے سربراہان کے ہمراہ شامل ہوئے۔
مذاکرات کے قریبی مصری ذرائع نے جمعہ کو اے ایف پی کو بتایا، "بات چیت قاہرہ میں ہو رہی ہے۔۔۔ مذاکرات کے ایک وسیع دور کی تیاری کے لیے جو اتوار کو شروع ہو گا۔"
"واشنگٹن اسرائیل اور حماس کے درمیان خلیج ختم کرنے کے لیے ثالثین کی نئی تجاویز اور منصوبے پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر تبادلۂ خیال کر رہا ہے"۔