ایرانی جوہری پروگرام : سپریم لیڈر نے امریکہ سے مذاکرات کا دروازہ کھول دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران کے سپریم لیڈر نے منگل کے روز ایک غیرمعمولی عندیہ دیا ہے۔ جس سے یہ ایک مثبت اشارہ سامنے آیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام پر مذاکرات کی تجدید چاہتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنی سویلین حکومت سے گفتگو میں کہی کہ دشمن کے ساتھ بھی بات چیت کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ریمارکس کسی بھی قسم کے مذاکرات کی راہ میں سرخ لکیر کھینچ سکتے ہیں۔ اگر اصلاح پسند صدر مسعود پزشکیان امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہوتے ہیں اور وہ کہہ دیتے ہیں کہ امریکہ قابل بھروسہ نہیں ہے۔

تاہم منگل کے روز انہوں نے مختلف عندیہ دیا ہے۔ 2015 میں جب ایران کا غیرملکی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام پر معاہدہ ہوا تو اس کے بعد مختلف پابندیاں اٹھائے جانے کے بدلے میں ایرانی حکومت کے بقول جوہری سرگرمیوں میں کافی کمی کر دی گئی۔

خامنہ ای نے سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے ویڈیو پیغام میں کہا ہے 'ہمیں اپنے دشمن پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ اپنے منصوبوں کے لیے دشمن کی منظوری کا انتظار کرنا چاہیے۔ تاہم کسی جگہ پر دشمن کے ساتھ بات کرنا پڑے تو اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔'

سپریم لیڈر علی خامنہ ای جو ریاست کے امور پر بالادستی رکھتے ہیں انہوں نے نومنتخب صدر کی کابینہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ دشمن پر بھروسہ نہ کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں