بھارتی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے بعد 130 سے زائد شہروں میں عالمی مظاہرے شروع
بھارتی عدالتِ عظمیٰ میں اس مقدمے کی پیر کو سماعت ہونی ہے
گذشتہ ماہ کولکتہ شہر کے ایک ہسپتال میں ایک ٹرینی ڈاکٹر کو عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے اتوار کو 25 ممالک کے 130 سے زیادہ شہروں میں ہزاروں بھارتی تارکینِ وطن احتجاج کر رہے تھے۔ یہ بات مظاہروں کے منتظمین نے بتائی۔
یہ مظاہرے جاپان، آسٹریلیا، تائیوان اور سنگاپور میں بڑے اور چھوٹے گروہوں میں شروع ہوئے اور کئی یورپی ممالک کے شہروں تک پھیل گئے۔ امریکہ میں ساٹھ مظاہروں کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
ان مطاہروں نے نو اگست کو شعبہ چیسٹ میڈیسن کی 31 سالہ پوسٹ گریجویٹ طالبہ کی ہلاکت کے بعد ہندوستان کے طول و عرض میں جاری مظاہروں میں اضافہ کیا۔
آر جی کار میڈیکل کالج جہاں متأثرہ خاتون زیرِ تعلیم تھی، اس کے سابق پرنسپل کے ساتھ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں سیرگلز ٹورگ سکوائر میں ایک مظاہرے میں سیاہ پوش خواتین کی بڑی تعداد جمع ہوئی جس نے بنگالی زبان میں گانے گائے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ وہ ہندستانی خواتین کے لیے تحفظ اور اس جرم کے ذمہ داران سے جواب طلبی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
عالمی مظاہروں کی ایک منتظم دیپتی جین نے کہا، "ڈیوٹی کے دوران ایک نوجوان ٹرینی ڈاکٹر پر اس وحشیانہ ظلم کی خبر سے ہم سب صریح بے حسی، بربریت اور انسانی زندگی کی بے توقیری پر چونک گئے اور سُن ہو گئے۔"
موجودہ برطانوی شہری اور کلکتہ نیشنل میڈیکل کالج اور ہسپتال کی سابق طالبہ جین نے گذشتہ ماہ برطانیہ میں خواتین ڈاکٹروں کے احتجاج کا اہتمام کیا تھا۔
بھارتی سپریم کورٹ نے مقتولہ ٹرینی کے کیس کی اگلی سماعت پیر کے لیے مقرر کر دی ہے۔
نئی دہلی میں 2012 میں ایک چلتی بس میں 23 سالہ طالبہ کی لرزہ خیز اجتماعی عصمت دری اور قتل کے بعد اگرچہ سخت قوانین متعارف کرائے گئے تھے لیکن کارکنان کہتے ہیں کہ کولکتہ کیس یہ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کس طرح بدستور جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہیں۔