اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے ’’ ایکس‘‘ پر ایک ویڈیو کلپ میں ایک پیغام پیش کیا اور اس کے متعلق کہا کہ یہ حماس کے سینئر رہنماؤں کو درپیش حقیقی مشکلات کو ظاہر کر رہا ہے۔ اس پیغام میں حماس میں خان یونس کے رہنما رافع سلامہ یحییٰ سنوار اور ان کے بھائی محمد سنوار سے مدد مانگ رہے اور بتا رہے ہیں کہ ہم تباہ ہوگئے ہیں۔
בבסיס צה״ל בו נאספו מתחילת המלחמה מסמכים מהמאגרים הרגישים ביותר לחמאס, חשפתי היום את מסמכו של מח״ט חא׳ן יונס שחוסל ביולי האחרון אשר מתאר את מצבו הקשה של ארגון החמאס.
— יואב גלנט - Yoav Gallant (@yoavgallant) September 11, 2024
חמאס במצוקה אמיתית מהדרג הזוטר ועד הבכיר - נמשיך במאמץ ונגיע לכולם. pic.twitter.com/v5aQG79P34
گیلنٹ نے کہا کہ پیغام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحریک کے جنگجو اپنی میزائل صلاحیتوں کے 90 سے 95 فیصد، ذاتی ہتھیاروں کے 60 فیصد اور اینٹی ٹینک میزائل لانچرز کے 65 سے 70 فیصد حصے سے محروم ہو چکے ہیں۔ گیلنٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ رافع سلامہ کے مبینہ پیغام سے پتہ چلتا ہے کہ حماس نے اپنے کم از کم نصف جنگجوؤں کو گنوا دیا ہے۔ یہ نصف جنگجو مارے گئے یا زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف 25 فیصد جنگجو باقی رہ گئے ہیں۔ 25 فیصد جنگجو وہ ہیں جو بوجھ برادشت نہ کر سکے اور نفسیاتی اور جسمانی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
سنوار کے بچوں کی تصویر
ویڈیو کے دوران گیلنٹ نے حماس کے رہنما یحییٰ سنوار کے بچوں کی ایک تصویر بھی لہرائی جو امریکہ میں 11 ستمبر کے حملے کی تصویر کشی والی پینٹنگ کے سامنے کھڑی تھے۔ گیلنٹ نے کہا کہ مبینہ تصویر حال ہی میں جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے نیچے ایک سرنگ سے ملی ہے۔ انہوں نے سنوار کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ یہ غزہ میں اسامہ بن لادن کے بچے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ان تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل کس سے لڑ رہا ہے۔ حماس کی آئیڈیالوجی داعش اور القاعدہ سے ملتی جلتی ہے۔ واضح رہے گزشتہ جولائی میں اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس رہنما رافع سلامہ کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیل نے گزشتہ اکتوبر سے غزہ کی پٹی میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور 41 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ ان شہدا میں زیادہ تر بچے، خواتین اور عام شہری شامل ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک حماس اور اس کے رہنماؤں کو ختم نہیں کردیا جاتا جنگ بھی ختم نہیں کی جائے گی۔