اسرائیلی میڈیا نے اتوار کی صبح اعلان کیا ہے کہ لبنان سے 30 سے زیادہ میزائل مختلف دیگر کالونیوں کی طرف داغے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر میزائل بالائی الجلیل اور مقبوضہ شامی علاقےگولان میں اسرائیلی بستیوں کی طرف فائر کیےگئے جس کے بعد گولان میں اسرائیلی سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔
نیز دیگر اطلاعات میں لبنان کے ساتھ اسرائیلی سرحد پر ڈرون حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔
اسرائیلی اخبار "یدیعوت احرونوت " نے رپورٹ کیا کہ لبنان سے آنے والا ایک ڈرون طیارہ گرکر تباہ ہوگیا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
اخبار نے کہا کہ ڈرون طیارے کی دراندازی کے خطرے سے خبردار کرنے کے لیے كريات شمونہ، كفرجلعادد، تل حائی، كفاريوفال، المطلہ، معيان باروخ، بيت هليل، مسكافعام، مرغليوت اورالمنارہ کالونیوں میں خطرے کے سائرن بنائے گئے.
الجلیل میں علاقائی کونسل اور گولان میں علاقائی کونسل نے بھی دونوں خطوں کے رہائشیوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ محفوظ علاقوں کے قریب ہی رہیں اور پبلک مقامات میں جمع ہونے سے بچیں۔
وہاں کی دونوں کونسلوں کے عہدیداروں نےبتایا کہ امن وامان کی صورت حال دیکھ کر پرائمری سکولد صبح 10 بجے کھلیں گے ، جبکہ گولان کونسل نے رہائشیوں کو بتایا کہ الحولہ اورالجلیل میں پرائمری سکولوں کو دس بجے کے بعد کھولا جائے گا۔ جب کی ہائی سکولوں کو ساڑھے دس کے بعد کھولا جائے گا۔
یہ تناؤ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی ہفتے کے روز اعلان کرنے کے ایک دن بعد پیدا ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل شمال میں بڑے پیمانے پر فوجی مہم کی طرف جارہا ہے۔
وزیر اعظم کے قریبی سینیر عہدیدار نے کہا کہ فوجی کارروائی کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے ، بلکہ مستقبل قریب میں یہ کسی بھی دن شروع ہوسکتی ہے۔
نیز "چینل 13" نے ہفتے کی شام کو بتایا کہ جمعہ کو ہونے والی ایک اسٹریٹجک گفتگو میں نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل شمالی سرحد پر ایک بڑی فوجی مہم کی طرف جارہا ہے۔ چینل کا کہنا تھا کہ شمالی محاذ کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مشاورت کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کا اندازہ ہے کہ شمال میں جنگ میں توسیع کے لیے غزہ میں فوجی موجودگی کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔